World
درخت سے لٹکی لاش کا کیس، پولیس کے انکشاف نے والدہ کو چونکا دیا
برطانیہ میں ایک خاتون کی درخت پر لٹکی ہوئی لاش کے معاملے میں پولیس کے نئے انکشافات نے سنسنی پھیلا دی ہے۔ متوفی کی والدہ نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس دعوے کے بعد ان کے خدشات اور سوالات میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔
برطانیہ کے ایک انتہائی پُراسرار اور المناک واقعے میں نیا موڑ اس وقت آیا جب پولیس نے یہ انکشاف کیا کہ ایک خاتون کی درخت سے لٹکی ہوئی لاش دراصل موت کے بعد وہاں لٹکائی گئی تھی۔ اس ہولناک انکشاف نے متوفی خاتون تاشیا فورچیون کی والدہ کرسٹی سپائیوی کو شدید صدمے سے دوچار کر دیا ہے۔ یہ خبر سامنے آنے کے بعد پورے علاقے میں غم و غصے اور حیرت کی لہر دوڑ گئی ہے کیونکہ تفتیش کا یہ نیا رخ کئی سنگین سوالات کو جنم دے رہا ہے۔
برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کرسٹی سپائیوی نے بتایا کہ پولیس کے اس بیان کے بعد ان کے پاس جوابات کم اور سوالات بہت زیادہ ہو گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایک ماں کے لیے یہ برداشت کرنا انتہائی مشکل ہے کہ اس کی بیٹی کے ساتھ اس نوعیت کا بہیمانہ سلوک کیا گیا ہو۔ ابتدائی طور پر اس کیس کو جس زاویے سے دیکھا جا رہا تھا، پولیس کی جانب سے اب اس میں تبدیلی لائی گئی ہے اور یہ شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ موت کی اصل وجوہات اور مقام کچھ اور تھا جبکہ لاش کو بعد میں اس مقام پر لا کر ڈسپوز کیا گیا۔
مقامی قانون نافذ کرنے والے اداروں کا کہنا ہے کہ اس کیس کی کُھل کر تفتیش کی جا رہی ہے اور فارنزک ماہرین کی رپورٹس کا انتظار ہے۔ پولیس کا مقصد اس بات کا حتمی سراغ لگانا ہے کہ آیا یہ قتل کا معاملہ ہے یا اس کے پیچھے کوئی اور تاریک راز چھپا ہوا ہے۔ حکام نے یقین دلایا ہے کہ وہ انصاف کے حصول کے لیے تمام ممکنہ سائنسی اور تکنیکی ذرائع استعمال کریں گے تاکہ مجرموں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جا سکے۔
دوسری جانب، متوفی کے خاندان اور دوستوں نے سوشل میڈیا اور دیگر پلیٹ فارمز پر انصاف کی مہم تیز کر دی ہے۔ ان کا مطالبہ ہے کہ اس گھناؤنے جرم میں ملوث تمام افراد کو فوری طور پر گرفتار کیا جائے۔ جیسے جیسے پولیس اس گتھی کو سلجھانے کی کوشش کر رہی ہے، معاشرے کے مختلف حلقوں کی طرف سے بھی اس پر شدید ردعمل سامنے آ رہا ہے اور اس بات پر زور دیا جا رہا ہے کہ خواتین کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے مزید سخت اقدامات کیے جائیں۔