World
ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کا ایرانی منصوبہ مسترد کر دیا
امریکی صدر نے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے حوالے سے ایران کے سات روزہ منصوبے کو ناقابل قبول قرار دے کر مسترد کر دیا ہے۔ اس پیش رفت کے بعد خطے میں کشیدگی برقرار ہے اور تہران کو واشنگتن کی طرف سے باضابطہ جواب کا انتظار ہے۔
واشنگتن اور تہران کے درمیان جاری کشیدگی میں اس وقت مزید اضافہ ہو گیا جب امریکی صدر نے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے پیش کیے جانے والے ایرانی منصوبے کو یکسر مسترد کر دیا۔ اطلاعات کے مطابق ایران کی جانب سے ایک سات روزہ پلان پیش کیا گیا تھا جس کا مقصد اس اہم آبی گزرگاہ کو بحال کرنا اور خطے میں جاری بحران کو کم کرنا تھا۔ تاہم امریکی قیادت نے اس تجویز کو ناکافی اور ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے اس پر عمل درآمد سے انکار کر دیا ہے۔ دنیا بھر کی نگاہیں اس وقت اس کشیدہ صورتحال پر لگی ہوئی ہیں کیونکہ آبنائے ہرمز عالمی تجارت بالخصوص تیل کی ترسیل کے لیے انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔ اس اہم ترین تجارتی راستے پر کسی بھی قسم کی رکاوٹ یا تنازعے کے عالمی معیشت پر انتہائی گہرے اور منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ امریکی انتظامیہ کے اس فیصلے کے بعد تہران میں اعلیٰ سطح پر غور و فکر کا سلسلہ جاری ہے اور ایرانی حکام واشنگتن کے اس قدم کے بعد آئندہ کے لائحہ عمل پر غور کر رہے ہیں۔ اس پس منظر میں مبصرین کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان سفارتی سطح پر ڈیڈ لاک برقرار ہے اور کسی بھی فوری حل کے آثار نظر نہیں آ رہے ہیں۔ ایران کے اندرونی اور بیرونی حلقوں میں اس پیش رفت پر گہری تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے، جبکہ تہران اب واشنگتن کے باضابطہ اور تفصیلی ردعمل کا انتظار کر رہا ہے تاکہ آئندہ کے اقدامات کا تعین کیا جا سکے.