Health
نوجوانوں میں ویسیکٹومی کا رجحان، وجوہات اور تفصیلات
برطانیہ میں نوجوان مردوں کی جانب سے ویسیکٹومی کرانے کے رجحان میں نمایاں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ بی بی سی نے ایسے ہی نوجوانوں سے بات کی جنہوں نے ذاتی اور جذباتی وجوہات کی بنا پر کم عمری میں یہ قدم اٹھایا۔
حالیہ کچھ برسوں کے دوران دنیا بھر کے ساتھ ساتھ مغربی ممالک میں بھی نوجوان مردوں کی ایک قابلِ ذکر تعداد نے ویسیکٹومی یعنی نس بندی کا عمل کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس رجحان نے طبی اور سماجی حلقوں میں نئی بحث کو جنم دیا ہے کیونکہ روایتی طور پر یہ خیال کیا جاتا تھا کہ یہ فیصلہ عموماً بڑی عمر کے افراد کرتے ہیں جن کے خاندان مکمل ہو چکے ہوتے ہیں۔ تاہم اب بیس کی دہائی کے نوجوان بھی اس مستقل مانع حمل طریقے کو اختیار کر رہے ہیں۔
بی بی سی نیوز نے حال ہی میں ایسے ہی چند نوجوان مردوں سے تفصیلی گفتگو کی جنہوں نے اپنی جوانی کے ابتدائی ایام میں ہی ویسیکٹومی کرانے کا انتخاب کیا۔ ان افراد میں سے ایک نے اپنے بچوں کی پیدائش کے دوران پیش آنے والے شدید جذباتی اور نفسیاتی صدمات کو اس فیصلے کی بنیادی وجہ قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پیدائش کے مراحل اور اس کے بعد کے حالات نے ان پر اور ان کے خاندان پر گہرے اثرات چھوڑے، جس کے بعد انہوں نے مزید بچوں کی پیدائش کے امکان کو ختم کرنے کا حتمی فیصلہ کیا۔
طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ ویسیکٹومی ایک نسبتاً سادہ اور محفوظ جراحی عمل ہے لیکن یہ مستقل نوعیت کا ہوتا ہے، اس لیے اس کا فیصلہ انتہائی سوچ سمجھ کر کیا جانا چاہیے۔ ماضی میں یہ طریقہ صرف ان افراد کے لیے مخصوص سمجھا جاتا تھا جو پہلے ہی والد بن چکے ہوں اور ان کی عمر زیادہ ہو۔ لیکن اب بدلتے ہوئے سماجی رجحانات اور ذاتی ترجیحات کی وجہ سے نوجوان نسل اس حوالے سے زیادہ کھلے عام بات چیت کر رہی ہے اور اپنے مستقبل کے حوالے سے آزادانہ فیصلے لے رہی ہے۔
اس حوالے سے ماہرین نفسیات کا یہ بھی ماننا ہے کہ نوجوانوں میں خاندانی ذمہ داریوں، مالی دباؤ اور ذاتی ذہنی صحت کے معاملات اب زیادہ اہمیت اختیار کر چکے ہیں۔ جب لوگ ماضی کے تکلیف دہ تجربات یا مخصوص حالات سے گزرتے ہیں، تو وہ مستقبل کے فیصلوں میں زیادہ احتیاط کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بیس کی دہائی میں ویسیکٹومی جیسے اہم اور ناقابلِ واپسی طبی فیصلوں کی شرح میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے جو کہ خاندانی منصوبہ بندی کے روایتی تصورات میں ایک بڑی تبدیلی کی عکاسی کرتا ہے۔