LIVE
Loading Breaking News...

تائیوان کی H2U کمپنی کا اے آئی کے ذریعے ملازمین کی صحت سنوارنے کا منصوبہ

News Image
تائیوان کی ڈیجیٹل ہیلتھ کمپنی ایچ ٹو یو مصنوعی ذہانت کی مدد سے کارپوریٹ سیکٹر میں ملازمین کی صحت اور فلاح و بہبود کے انتظام کو بہتر بنا رہی ہے۔ کمپنی اب جنوبی کوریا کے اشتراک سے دیگر بین الاقوامی منڈیوں میں بھی اپنی خدمات کو وسعت دینے کا ارادہ رکھتی ہے۔
جب کارپوریٹ دنیا میں ای ایس جی (ماحولیاتی، سماجی اور گورننس) کے اصولوں پر بات کی جاتی ہے، تو اکثر کمپنیاں ماحولیاتی مسائل اور تعمیل پر زیادہ زور دیتی ہیں۔ تاہم، سماجی پہلو کے ایک انتہائی اہم جزو یعنی ملازمین کی صحت پر نسبتاً کم توجہ دی جاتی ہے۔ ان خیالات کا اظہار تائیوان کی ڈیجیٹل ہیلتھ ٹیکنالوجی کمپنی ایچ ٹو یو کے بانی اور چیف ایگزیکٹو آفیسر سیکسن چن نے ایک حالیہ انٹرویو کے دوران کیا۔ کمپنی کے بانی کے مطابق، جدید کارپوریٹ کلچر میں ملازمین کی جسمانی اور ذہنی صحت کو نظر انداز کرنا طویل مدت میں کاروباری کارکردگی کو متاثر کر سکتا ہے۔ اسی ضرورت کے پیش نظر، ان کی کمپنی مصنوعی ذہانت (اے آئی) اور جدید ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے کارپوریٹ اداروں کو اپنے ملازمین کی صحت کا موثر انداز میں انتظام کرنے میں مدد فراہم کر رہی ہے۔ اس نظام کے ذریعے ملازمین کے ہیلتھ ڈیٹا کا تجزیہ کر کے بروقت اقدامات تجویز کیے جاتے ہیں۔ اب ایچ ٹو یو کمپنی تائیوان سے باہر نکل کر بین الاقوامی منڈیوں میں قدم رکھنے کی تیاری کر رہی ہے۔ اس سلسلے میں جنوبی کوریا کو ایک اہم سٹریٹیجک شراکت دار کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ جنوبی کوریا کی مارکیٹ میں قدم جمانے کے بعد، کمپنی کا ارادہ خطے کی دیگر ابھرتی ہوئی منڈیوں میں بھی اپنی صحت سے متعلق ڈیجیٹل خدمات کو وسعت دینا ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ کارپوریٹ اداروں کو اس جدید سہولت سے مستفید کیا جا سکے۔