Technology
فیس بک ذمہ دار قرار اور ٹک ٹاک کا 100 ملین ڈالر کا تصفیہ
امریکہ میں ٹیکنالوجی کے دو بڑے اداروں کو صارفین کی حفاظت اور پرائیویسی سے متعلق قانونی محاذ پر بڑے جھٹکوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ فیس بک کو ایک جیوری نے صارفین کو گمراہ کرنے کا ذمہ دار قرار دیا ہے جبکہ ٹک ٹاک نے مقدمہ نمٹانے کے لیے ایک سو ملین ڈالر کی بڑی رقم دینے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔
امریکہ میں ٹیکنالوجی کی بڑی کمپنیوں کے خلاف صارفین کی حفاظت اور پرائیویسی سے متعلق قانونی کارروائیوں میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ذرائع کے مطابق دو معروف ترین ٹیک جنات کو صارفین کو مبینہ طور پر گمراہ کرنے کے معاملات میں عدالتی اور قانونی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا ہے، جن میں فیس بک کو ایک جیوری کی جانب سے ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے جبکہ ٹک ٹاک نے معاملہ فہمی کے تحت ایک سو ملین ڈالر کی ادائیگی کا فیصلہ کیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق، فیس بک کو ایک امریکی عدالت کی جیوری کی طرف سے صارف کی حفاظت کے حوالے سے کیے جانے والے دعووں میں غفلت اور مس برینڈنگ کا مرتکب پایا گیا۔ جیوری کے اس فیصلے کے بعد کمپنی کو قانونی اور مالی محاذ پر مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے احتساب کے حوالے سے ایک نیا قانونی باب کھلے گا اور دیگر کمپنیوں پر بھی صارفین کی پرائیویسی کو مقدم رکھنے کے لیے دباؤ بڑھے گا
دوسری جانب، شارٹ ویڈیو شیئرنگ کی مقبول ترین ایپ ٹک ٹاک نے بھی اپنے خلاف دائر ہونے والے ایک بڑے مقدمے کو ختم کرنے کے لیے ایک سو ملین ڈالر کا تصفیہ کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ یہ تنازع بھی صارفین کی حفاظت اور ڈیٹا پرائیویسی سے جڑے الزامات کی بنیاد پر شروع ہوا تھا، جس میں کمپنی نے طویل قانونی لڑائی سے بچنے اور معاملات کو سلجھانے کے لیے یہ بھاری رقم ادا کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس تصفیے کے بعد ٹک ٹاک کو عدالت کے باہر معاملہ بند کرنے میں مدد ملے گی، تاہم یہ صنعت کے دیگر اداروں کے لیے بھی ایک انتباہ ہے۔
ڈیجیٹل رائٹس اور صارفین کے حقوق کے تحفظ کے لیے کام کرنے والے اداروں نے ان عدالتی فیصلوں اور تصفیات کا خیرمقدم کیا ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ دنیا بھر میں سوشل میڈیا کمپنیوں کو اپنے الگورتھمز اور فیچرز کے ذریعے کم عمر صارفین اور عام لوگوں کی ذہنی صحت و پرائیویسی کو خطرے میں ڈالنے کے خلاف مزید ذمہ دارانہ رویہ اپنانا ہوگا۔ آنے والے دنوں میں اس قسم کے مزید مقدمات کے سامنے آنے کا قوی امکان ہے جو ٹیک کمپنیوں کے کاروباری ماڈل کو تبدیل کرنے پر مجبور کر سکتے ہیں۔