World
ٹرمپ کا ایران کی آبنائے ہرمز تجویز پر کڑا ردعمل
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے سے متعلق ایران کی امن تجویز کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔ تہران نے واضح کیا ہے کہ وہ جوہری مذاکرات کے حوالے سے کوئی لچک نہیں دکھائے گا اور اپنے مؤقف پر قائم رہے گا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے سے متعلق ایران کی حالیہ امن تجویز کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔ بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق تہران کی جانب سے ایک ہفتے کے امن معاہدے اور آبنائے ہرمز کو کھولنے کی پیشکش کی گئی تھی، جسے امریکی انتظامیہ نے قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ اس پیشرفت کے بعد دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق خطے میں جاری کشیدہ صورتحال کے تناظر میں یہ فیصلہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ دوسری جانب ایرانی حکام نے دوٹوک الفاظ میں واضح کیا ہے کہ تہران اپنے جوہری پروگرام پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ ایرانی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ وہ کسی بھی بیرونی دباؤ کے سامنے سر نہیں جھکائیں گے اور اپنے دفاع کے لیے تمام ضروری اقدامات اٹھانے کا حق محفوظ رکھتے ہیں۔ تہران کے اس سخت مؤقف کے بعد عالمی سطح پر سفارتی کوششوں کو شدید دھچکا لگا ہے اور امن کی بحالی کے امکانات مزید معدوم ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔ رپورٹس میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اس صورتحال کے بعد مشرق وسطیٰ میں فوجی کشیدگی میں تیزی آ سکتی ہے اور عالمی منڈی میں تیل کی سپلائی کے حوالے سے بھی خدشات بڑھ رہے ہیں۔ عالمی برادری نے دونوں ممالک سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی ہے تاکہ خطے کو ایک بڑی جنگ سے بچایا جا سکے۔ تاہم زمینی حقائق اس بات کی غمازی کرتے ہیں کہ فی الحال فریقین کے درمیان مفاہمت کے آثار نظر نہیں آ رہے اور کشیدگی کا یہ سلسلہ طویل ہو سکتا ہے۔