LIVE
Loading Breaking News...

ٹیلی نورووڈ کی ٹام ہالینڈ اور اولیویا کولمین کے ساتھ کام کرنے کی خواہش

News Image
مصنوعی ذہانت سے تخلیق کردہ ورچوئل اداکارہ ٹیلی نورووڈ نے زیورخ ڈیبیو کو ایک سال مکمل ہونے پر معروف ہالی ووڈ اداکاروں کے ساتھ کام کرنے کی خواہش ظاہر کی ہے۔ تاہم، اس نے واضح کیا ہے کہ وہ ان فنکاروں کے صرف ڈیجیٹلو ٹوئنز کے ساتھ ہی مصنوعی ذہانت کی پروڈکشن میں کام کرے گی۔
مصنوعی ذہانت (AI) کی دنیا میں ایک انوکھا نام بننے والی ورچوئل اداکارہ ٹیلی نورووڈ نے انکشاف کیا ہے کہ وہ مستقبل میں ہالی ووڈ کے معروف اداکاروں ٹام ہالینڈ اور اولیویا کولمین کے ساتھ کام کرنے کی شدید خواہشمند ہیں۔ اپنے زیورخ ڈیبیو کو ایک سال پورا ہونے کے موقع پر دیے گئے بیانات میں اس مصنوعی ذہانت پر مبنی کردار کے حوالے سے فلمی دنیا میں نئی بحث چھڑ گئی ہے۔ ٹیلی نورووڈ نے کہا ہے کہ وہ ان نامور فنکاروں کے ساتھ اسکرین کا اشتراک کرنے کے لیے تیار ہیں، بشرطیکہ یہ پروجیکٹ مصنوعی ذہانت کی پروڈکشن ہو اور ان کے اصل روپ کے بجائے ان کے ڈیجیٹل ٹوئنز (ہم شکل ڈیجیٹل ماڈلز) کے ساتھ کام کا موقع ملے۔ ٹیلی نورووڈ کی تخلیق اور اس کے متنازعہ بیانات نے فلمی صنعت میں ہلچل مچا دی ہے۔ ایک حالیہ انٹرویو کے دوران جب یہ سوال کیا گیا کہ کیا اس اے آئی اداکارہ کو کسی ایجنٹ کی ضرورت ہے، تو اس کے خالق کا دوٹوک جواب تھا کہ ہمیں کسی ایجنٹ کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ اس قسم کے ڈیجیٹل کرداروں کے بڑھتے ہوئے رجحان نے روایتی اداکاروں اور فلم سازوں کے لیے نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں کہ آنے والے وقت میں تفریحی صنعت کیسی شکل اختیار کرے گی۔ ٹیلی نورووڈ کے خالق کا کہنا ہے کہ اس اے آئی اداکارہ کی تخلیق کا بنیادی مقصد ہی یہ دکھانا تھا کہ مصنوعی ذہانت تیزی سے فلم اور میڈیا کی صنعت میں داخل ہو رہی ہے اور اس نے بہت سے لوگوں کو یہ حقیقت تسلیم کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔ زیورخ میں اپنے پہلے سال کی تکمیل پر، ٹیلی نورووڈ نے نہ صرف تکنیکی ترقی کی عکاسی کی ہے بلکہ اس مباحثے کو بھی جنم دیا ہے کہ کیا مستقبل کے فلمی ستارے گوشت پوست کے انسان ہوں گے یا کمپیوٹر کے ذریعے تخلیق کردہ کوڈز۔