World
ایران کا آبنائے ہرمز معاہدے پر باضابطہ امریکی جواب کا انتظار
ایرانی وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ بیانات کے باوجود امریکہ نے تہران کے ساتھ کسی بھی سمجھوتے کو باضابطہ طور پر مسترد نہیں کیا ہے۔ تہران کی جانب سے آبنائے ہرمز کے حوالے سے سفارتی سطح پر امریکی ردعمل کا انتظار کیا جا رہا ہے۔
ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ تہران کی جانب سے آبنائے ہرمز اور دیگر سفارتی امور سے متعلق معاملات پر امریکی مؤقف کا بغور جائزہ لیا جا رہا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ نے واضح کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ہفتے کے روز دیے گئے بیانات کے باوجود واشنگٹن کی طرف سے تہران کو کوئی باضابطہ تحریری یا سفارتی انکار موصول نہیں ہوا ہے۔ اسی وجہ سے ایران اس معاملے پر اب تک تحمل کا مظاہرہ کر رہا ہے اور حتمی جواب کا منتظر ہے۔ دوسری جانب بین الاقوامی سطح پر آبنائے ہرمز کے خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی کوششیں بھی جاری ہیں۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق، اس قسم کے بیانات اور جوابی بیانات خطے کی سیاست میں معمول کا حصہ بن چکے ہیں، تاہم اصل اہمیت اس بات کی ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان پس پردہ یا سفارتی ذرائع سے کیا گفتگو ہو رہی ہے۔ ایران کا اصرار ہے کہ جب تک کوئی باضابطہ موقف سامنے نہیں آتا، وہ اپنے سابقہ اصولوں پر قائم رہے گا۔ خطے کے امن اور سمندری گزرگاہوں کی سلامتی کے لیے بین الاقوامی برادری بھی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ بحران کو بڑھنے سے روکا جا سکے۔ تہران اور واشنگتن کے درمیان کشیدگی کے اس دور میں دونوں جانب سے احتیاط برتنے کی ضرورت پر زور دیا جا رہا ہے، تاکہ مشرق وسطیٰ میں مزید عدم استحکام پیدا نہ ہو۔