World
ایتھوپیا کی فوج کا تحمل کا عزم، اریٹیریا پر سنگین الزامات
ایتھوپیا کی فوج نے ملک میں ایک نئی خانہ جنگی کے خدشات کے درمیان تحمل کا مظاہرہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ آرمی چیف نے اریٹیریا پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ ایتھوپیا کو کمزور کرنے کے لیے مسلح گروہوں کی مالی اعانت اور مدد کر رہا ہے۔
ایتھوپیا کی فوج نے حالیہ دنوں میں بڑھتے ہوئے تناؤ اور ایک نئی خانہ جنگی کے خدشات کے پیش نظر انتہائی تحمل کا مظاہرہ کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں سکیورٹی کی صورتحال ایک بار پھر پیچیدہ ہوتی جا رہی ہے اور عوام میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔ حکومتی اور عسکریحلقوں کی جانب سے امن و امان برقرار رکھنے کے لیے ہر ممکن کوشش کرنے کی یقین دہانی کرائی گئی ہے۔
اس صورتحال کے تناظر میں، ایتھوپیا کے آرمی چیف نے پڑوسی ملک اریٹیریا پر انتہائی سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ اریٹیریا کی حکومت باقاعدہ طور پر ایتھوپیا کے اندر مختلف مسلح گروہوں کو مالی اعانت فراہم کر رہی ہے اور ان کی عسکری و لاجسٹک مدد کر رہی ہے۔ آرمی چیف کے مطابق، اس مبینہ حمایت کا بنیادی مقصد ایتھوپیا کو اندرونی طور پر کمزور کرنا اور ملک میں عدم استحکام پیدا کرنا ہے۔
اریٹیریا کی جانب سے ان الزامات پر تاحال کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ہے، تاہم دونوں ممالک کے تعلقات میں تناؤ کی وجہ سے خطے میں ایک بار پھر جنگ کے بادل منڈلانے لگے ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر صورتحال کو سفارتی سطح پر جلد کنٹرول نہ کیا گیا تو افریقہ کا یہ خطہ ایک بار پھر بڑے انسانی اور عسکری بحران کا شکار ہو سکتا ہے۔ بین الاقوامی برادری نے بھی فریقین سے تحمل سے کام لینے اور بات چیت کے ذریعے مسائل حل کرنے کی اپیل کی ہے۔
حکومت ایتھوپیا اور عسکری قیادت کی اولین ترجیح ملک کی سالمیت کا تحفظ اور اندرونی امن کا قیام ہے۔ فوج کا یہ تازہ عزم اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ وہ حالات کو مزید بگڑنے سے روکنے کے لیے سنجیدہ ہے، بشرطیکہ بیرونی مداخلت اور مسلح گروہوں کی سرگرمیوں پر قابو پایا جا سکے۔