World
تونس حراست فلوٹلا کارکنان صحت کی صورتحال اور اہل خانہ کا احتجاج
تونس میں زیر حراست فلوٹلا کے کارکنوں کی بگڑتی ہوئی صحت اور بھوک ہڑتال کے باعث اہل خانہ شدید ذہنی کرب میں مبتلا ہیں۔ پیاروں کی جدائی اور غیر یقینی صورتحال نے لواحقین کی پریشانی کو مزید بڑھا دیا ہے۔
تونس میں حکام کی جانب سے حراست میں لیے گئے فلوٹلا کے کارکنوں کی صحت کے حوالے سے تشویشناک خبریں سامنے آ رہی ہیں۔ اطلاعات کے مطابق طویل حراست اور غیر یقینی صورتحال کے شکار ان کارکنوں کی طبی حالت دن بہ دن ابتر ہوتی جا رہی ہے جس پر انسانی حقوق کے حلقوں میں گہری تشویش پائی جاتی ہے۔ یہ صورتحال نہ صرف خود زیر حراست افراد کے لیے خطرناک ثابت ہو رہی ہے بلکہ ان کے اہل خانہ بھی شدید ترین ذہنی کرب اور صدمے سے گزر رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق قید کے دوران پیدا ہونے والے مسائل اور طویل دباؤ کے پیش نظر کارکنوں کی جانب سے بھوک ہڑتال اور دیگر احتجاجی اقدامات کا بھی سہارا لیا گیا ہے جس سے ان کی جسمانی کمزوری میں خطرناک حد تک اضافہ ہو چکا ہے۔ لواحقین کا کہنا ہے کہ انہیں اپنے پیاروں کی صحت کے بارے میں باقاعدہ اور درست معلومات تک فراہم نہیں کی جا رہی ہیں جس کی وجہ سے ان کی بے چینی اور غم میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ جدائی کے اس کڑے وقت میں اہل خانہ نے عالمی برادری اور انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس معاملے میں فوری مداخلت کریں۔
فلوٹلا کے ان کارکنوں کے حراستی معاملات اور قانونی چارہ جوئی میں تاکیب نے بھی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ قیدیوں کے بنیادی حقوق کا تحفظ ریاست کی ذمہ داری ہے اور طبی امداد کی فراہمی میں کسی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جانی چاہیے۔ مبصرین کے مطابق اگر حکومت نے فوری طور پر اس مسئلے کا کوئی منصفانہ حل نہ نکالا تو صورتحال مزید سنگین رخ اختیار کر سکتی ہے جس کی تمام تر ذمہ داری متعلقہ حکام پر عائد ہوگی۔
دوسری جانب تونس کے اندر اور باہر موجود حامیوں نے بھی کارکنوں کی فوری رہائی اور ان کے ساتھ منصفانہ سلوک روا رکھنے کا مطالبہ تیز کر دیا ہے۔ سوشل میڈیا اور دیگر پلیٹ فارمز پر اس معاملے پر آواز اٹھائی جا رہی ہے تاکہ عالمی سطح پر دباؤ بڑھایا جا سکے۔ اہل خانہ نے ایک بار پھر اپیل کی ہے کہ انسانی ہمدردی کی بنیادوں پر اس انسانی بحران کا فوری نوٹس لیا جائے اور تمام زیر حراست افراد کو طبی سہولیات فراہم کرتے ہوئے رہا کیا جائے۔