World
میڈرڈ میں ہاؤسنگ بحران اور بے دخلی کے خلاف بڑا احتجاج
سپین کے دارالحکومت میڈرڈ میں 87 سالہ ماریکرمین اباسکل کی زبردستی بے دخلی کے خلاف ہزاروں مظاہرین نے سڑکوں پر نکل کر شدید احتجاج کیا۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ ملک میں بڑھتے ہوئے ہاؤسنگ بحران اور کرایوں میں ہوشربا اضافے نے غریب اور متوسط طبقے کا جینا محال کر دیا ہے۔
سپین کے دارالحکومت میڈرڈ کی سڑکیں اس وقت جل اٹھیں جب ہزاروں کی تعداد میں عام شہری اور سماجی کارکن ہاؤسنگ بحران اور بڑھتی ہوئی مہنگائی کے خلاف سراپا احتجاج بن گئے۔ اس بڑے احتجاج کی بنیادی وجہ 87 سالہ معمر خاتون ماریکرمین اباسکل کو ان کے گھر سے زبردستی بے دخل کیا جانا بنا، جس نے پورے ملک میں ایک نئی بحث کو جنم دے دیا ہے۔ مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ حکومت اس واقعے کا فوری نوٹس لے اور بزرگ شہریوں اور کم آمدنی والے افراد کے تحفظ کے لیے ہنگامی بنیادوں پر قوانین بنائے جائیں۔
احتجاج کے دوران شرکاء نے حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کی اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر رہائشی حقوق اور سستے گھروں کی فراہمی کے مطالبات درج تھے۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ میڈرڈ اور دیگر بڑے شہروں میں پراپرٹی کی قیمتوں اور کرایوں میں بے پناہ اضافے کی وجہ سے عام آدمی کا چھت کا حصول ناممکن ہوتا جا رہا ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ حکومت اور متعلقہ ادارے رئیل اسٹیٹ مافیا کے سامنے بے بس دکھائی دیتے ہیں، جس کی وجہ سے غریب عوام کو ان کے گھروں سے نکالا جا رہا ہے۔
ماریکرمین اباسکل کی بے دخلی کے اس دلخراش واقعے نے سپین بھر کے شہریوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ سماجی تنظیموں اور انسانی حقوق کے کارکنوں نے بھی اس احتجاج میں بھرپور شرکت کی اور حکومت کو خبردار کیا کہ اگر ہاؤسنگ بحران پر قابو پانے کے لیے عملی اقدامات نہ کیے گئے تو احتجاج کا دائرہ کار پورے ملک تک پھیلا دیا جائے گا۔ اس صورتحال نے موجودہ سیاسی اور انتظامی ڈھانچے پر بھی کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں، اور حکام پر شدید دباؤ بڑھتا جا رہا ہے کہ وہ اس سنگین مسئلے کا فوری حل نکالیں۔