LIVE
Loading Breaking News...

امریکہ ایران کشیدگی اور اقوام متحدہ کی سفارتی کوششیں

News Image
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا اجلاس اختتام پذیر ہو گیا ہے جس کے سفارتی نتائج ملے جلے رہے ہیں۔ اس ہفتے کے دوران عالمی رہنماؤں نے کشیدگی کم کرنے اور جنگ کے خاتمے کے لیے مختلف تجاویز پر غور کیا۔
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا سالانہ اجلاس ایک ایسے وقت میں اختتام کو پہنچا ہے جب دنیا بھر کی نگاہیں امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اور ممکنہ جنگ کے بادلوں پر مرکوز تھیں۔ اس سفارتی ہفتے کو حالیہ برسوں کا سب سے اہم ترین ہفتہ قرار دیا جا رہا تھا کیونکہ دنیا بھر کے رہنما نیویارک میں جمع ہوئے تاکہ خطے میں امن قائم کرنے اور کسی بھی بڑی تباہی کو روکنے کے لیے مشترکہ لائحہ عمل تیار کیا جا سکے۔ اجلاس کے دوران کئی اہم ملاقاتیں ہوئیں جن کا بنیادی مقصد دونوں ممالک کے درمیان جاری خلیج کو کم کرنا اور مذاکرات کی میز پر واپسی کے امکانات کا جائزہ لینا تھا۔ تاہم، اس ہفتے کے سفارتی نتائج ملے جلے رہے ہیں اور تجزیہ کاروں کے مطابق جنگ کے خطرات مکمل طور پر ٹلے نہیں ہیں۔ ایک طرف جہاں بعض ممالک نے دونوں فریقین کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کرنے کی پیشکش کی اور پرامن حل تلاش کرنے پر زور دیا، وہیں دوسری طرف بنیادی اور دیرینہ مطالبات پر فریقین کا موقف تاحال سخت برقرار ہے۔ امریکہ اور ایران کے درمیان جوہری معاہدے اور خطے میں اثر و رسوخ کے حوالے سے جو اختلافات ہیں، ان میں فوری طور پر کسی بڑے تعطل کے ٹوٹنے کے آثار دکھائی نہیں دیے، جس کی وجہ سے سفارتی حلقوں میں تشویش کی لہر تاحال پائی جاتی ہے۔ اس اجلاس کے دوران یورپی اور دیگر اتحادی ممالک نے بھی فریقین پر تحمل کا مظاہرہ کرنے کی زور دار اپیل کی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس وقت خطے میں مزید کسی بھی فوجی تصادم کی گنجائش نہیں ہے کیونکہ اس کے دنیا بھر کی معیشت اور سلامتی پر تباہ کن اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ سفارتی سطح پر ہونے والی ان کوششوں کا ایک مثبت پہلو یہ ضرور رہا کہ تمام فریقین نے باہمی رابطے جاری رکھنے اور کسی بھی غلط فہمی کو بڑھنے سے روکنے کے لیے چینلز کھلے رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔ آنے والے ہفتے اس بات کا فیصلہ کریں گے کہ اس سفارتی ہلچل نے زمینی حقائق پر کیا اثر ڈالا ہے۔ اگرچہ تاحال امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ کے خاتمے یا حتمی معاہدے کے حوالے سے کوئی بہت بڑی پیشرفت سامنے نہیں آئی ہے، لیکن مذاکرات کا سلسلہ جاری رہنا خود میں ایک اہم علامت ہے۔ عالمی برادری اب بھی اس بات کی منتظر ہے کہ کوئی ایسا مؤثر راستہ نکل آئے جو طویل المدتی امن کی ضمانت دے سکے اور خطے کو مزید کسی خونریز تنازع سے محفوظ رکھ سکے۔