LIVE
Loading Breaking News...

ایرانی صدر مسعود پزشکیان کا واشنگتن کے ساتھ مذاکرات پر عدم اعتماد کا اظہار

News Image
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے اعلان کیا ہے کہ تہران اب واشنگتن کے ساتھ مذاکرات پر مزید اعتماد نہیں کرتا۔ یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دوسری طرف سے ایرانی تجاویز کو مسترد کر دیا گیا ہے۔
تہران: ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے ایک اہم اور سخت بیان میں کہا ہے کہ ایران اب واشنگتن کے ساتھ کسی بھی قسم کے مذاکرات پر مزید اعتماد نہیں رکھتا۔ ان کا یہ موقف دو طرفہ تعلقات میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور طویل عرصے سے جاری سفارتی تعطل کی عکاسی کرتا ہے۔ ایران کے اعلیٰ ترین سطح پر اس طرح کے بیانات اس بات کی غمازی کرتے ہیں کہ دونوںممالک کے مابین سفارتی سطح پر غلط فہمیاں اور عدم اعتماد کی خلیج مزید گہری ہوتی جا رہی ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق، اس بیان کے بعد خطے میں کشیدگی کے خاتمے کے لیے کی جانے والی کوششوں کو شدید دھکا لگ سکتا ہے۔ یہ بیان عین اس وقت سامنے آیا ہے جب دوسری طرف سے تہران کی جانب سے پیش کی جانے والی آبنائے ہرمز سے متعلقہ تجویز کو بھی یکسر مسترد کر دیا گیا تھا۔ آبنائے ہرمز کی اہمیت عالمی تجارت اور تیل کی ترسیل کے حوالے سے انتہائی مسلمہ ہے، اور اس خطے میں ہونے والی کسی بھی پیش رفت پر بین الاقوامی برادری کی گہری نظر رہتی ہے۔ اس مسترد کیے جانے کے عمل نے تہران کے اندر موجود اس موقف کو مزید تقویت دی ہے کہ واشنگتن کے ساتھ کسی بھی معاہدے تک پہنچنا انتہائی مشکل یا تقریباً ناممکن ہو چکا ہے۔ ایرانی قیادت کا ماننا ہے کہ گزشتہ تجربات کی روشنی میں امریکی وعدوں پر بھروسہ کرنا ملکی مفادات کے منافی ہے۔ اس پس منظر میں ایرانی حکومت کی جانب سے یہ واضح پیغام دیا گیا ہے کہ وہ اپنے فیصلے خود کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے اور دباؤ کے تحت کیے جانے والے مذاکرات کو کوئی اہمیت نہیں دی جائے گی۔ دوسری جانب بین الاقوامی سطح پر اس ردعمل کو انتہائی تشویش کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے کیونکہ اس سے مشرق وسطیٰ کے پہلے ہی سے ابتر حالات کے مزید خراب ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ دونوں فریقین کے درمیان سفارتی چینلز کی بندش یا عدم اعتماد کا یہ عالم خطے میں کسی بھی ناخوشگوار واقعے کا سبب بن سکتا ہے۔ تہران کی موجودہ پالیسی یہ ظاہر کرتی ہے کہ وہ اپنے اتحادیوں اور اندرونی وسائل پر انحصار کرتے ہوئے بیرونی دباؤ کا مقابلہ کرنے کے لیے پرعزم ہے۔