Politics
اسلام آباد ہائی کورٹ کا پاسپورٹ کنٹرول لسٹ سے متعلق تاریخی فیصلہ
اسلام آباد ہائی کورٹ نے پاسپورٹ رولز 2021 کی متنازع شق کو غیر آئینی قرار دے دیا ہے جس کے تحت ایجنسیاں شہریوں کے نام پاسپورٹ کنٹرول لسٹ میں شامل کرتی تھیں۔ عدالت نے اپنے تفصیلی فیصلے میں قرار دیا کہ بغیر کسی قانونی جواز یا مجاز اتھارٹی کے شہریوں کو بیرون ملک سفر سے نہیں روکا جا سکتا۔
اسلام آباد ہائی کورٹ نے پاسپورٹ رولز، 2021 کے اس حصے کو غیر آئینی قرار دے دیا ہے جو حکومتی اداروں اور ایجنسیوں کی سفارش پر کسی بھی شہری کا نام پاسپورٹ کنٹرول لسٹ یعنی پی سی ایل میں شامل کرنے کی اجازت دیتا تھا۔ عدالت نے اپنے تفصیلی فیصلے میں واضح کیا کہ قانون میں اس اقدام کے لیے نہ تو کوئی مجاز اتھارٹی بیان کی گئی تھی اور نہ ہی کسی قسم کے قانونی تقاضے پورے کیے گئے تھے۔ جسٹس راجہ انعام امین منہاس نے یہ فیصلہ معین الدین نامی شہری کی درخواست پر جاری کیا، جنہیں 18 دسمبر 2025 کو اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر عمرہ کے لیے جاتے ہوئے بغیر کسی وجہ کے آف لوڈ کر دیا گیا تھا۔ درخواست گزار کے پاس درست پاکستانی پاسپورٹ، سعودی ویزا اور کنفرم ٹکٹ موجود ہونے کے باوجود اسے سفر سے روک دیا گیا تھا۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ درخواست گزار کا پاسپورٹ کبھی ضبط یا منسوخ نہیں کیا گیا تھا اور نہ ہی اس کے اجراء یا تجدید سے انکار کیا گیا تھا۔ کیس کے دوران یہ بنیادی نکتہ زیر بحث آیا کہ آیا کوئی ایجنسی درست پاسپورٹ رکھنے والے شہری کو سفر کرنے سے روکنے کا اختیار رکھتی ہے یا نہیں۔ عدالت کو بتایا گیا کہ معین الدین کا نام 24 دسمبر 2024 کو این سی بی انٹرپول کی سفارش اور ایف آئی اے امیگریشن ونگ کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر کی وساطت سے پی سی ایل میں ڈالا گیا تھا۔ یہ کارروائی برطانیہ میں سزا کاٹنے اور ڈی پورٹ ہونے کے بعد عمل میں آئی تھی، تاہم عدالت نے نوٹ کیا کہ وہ اپنی تین سالہ سزا مکمل کر چکے تھے اور پاکستان میں ان کے خلاف کوئی مقدمہ، انکوائری یا تحقیقات زیر التواء نہیں تھیں۔ وہ نہ تو مفرور تھے اور نہ ہی ان کے خلاف کسی قسم کی حوالگی کی درخواست موجود تھی۔
پاسپورٹ حکام کی جانب سے مؤقف اپنایا گیا تھا کہ درخواست گزار کے رویے سے پاکستان کی بین الاقوامی شہرت کو نقصان پہنچا ہے اور نام پی سی ایل میں ڈالنے کا مقصد ڈیٹرنس یعنی روک تھام پیدا کرنا ہے۔ تاہم، اسلام آباد ہائی کورٹ نے اس عذرداری کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اس قسم کی وجوہات پاسپورٹ ایکٹ یا رولز میں شامل نہیں ہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ پاسپورٹ دینے سے انکار کرنا اور کسی شہری پر سفر کی پابندی عائد کرنا دو الگ الگ اختیارات ہیں، اور پی سی ایل کو تیار و برقرار رکھنا ایک انتظامی عمل ہے جو کسی کو فہرست میں شامل کرنے کا خود بخود قانونی اختیار فراہم نہیں کرتا۔
عدالت نے یہ بھی نشاندہی کی کہ متنازع حکم نامے میں صرف یہ لکھا گیا تھا کہ یہ 'مجاز اتھارٹی' کی منظوری سے جاری کیا گیا ہے لیکن نہ تو اس اتھارٹی کی نشاندہی کی گئی اور نہ ہی قانون کی کوئی شق بیان کی گئی۔ جج نے ریمارکس دیے کہ اس متنازع شق میں کسی شفاف طریقہ کار، نوٹس، سماعت یا وجوہات بتانے کا کوئی نظام موجود نہیں تھا جس کی وجہ سے شہری کو ایئرپورٹ پہنچنے پر ہی پابندی کا پتا چلتا تھا۔ عدالت نے ایف آئی اے اور دیگر متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ وہ پندرہ دن کے اندر درخواست گزار کا نام پی سی ایل سے خارج کریں اور آئندہ اس کے قانونی غیر ملکی سفر میں مداخلت نہ کریں۔ فیصلے کی کاپیاں سیکرٹری داخلہ، ڈی جی پاسپورٹ اور ڈی جی ایف آئی اے کو عملدرآمد کے لیے ارسال کر دی گئی ہیں۔