World
ریاض پر حوثی میزائل حملہ ناکام، سعودی اتحاد کا بیان
سعودی عرب کی قیادت میں قائم اتحاد نے دارالحکومت ریاض اور جنوبی شہر خمیس مشیت کی طرف داغے گئے حوثی باغیوں کے میزائل اور ڈرون کامیابی سے فضا میں ہی تباہ کر دیے۔ خلیج تعاون کونسل نے ان حملوں کو خطے کے امن اور سلامتی کے خلاف سنگین اشتعال انگیزی قرار دیتے ہوئے شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔
ریاض: سعودی عرب کی قیادت میں یمن میں سرگرم حوثی باغیوں کے خلاف لڑنے والے عسکری اتحاد نے ہفتے کے روز اعلان کیا ہے کہ اس نے سعودی دارالحکومت ریاض اور جنوب مغربی شہر خمیس مشیت کو نشانہ بنانے والے حوثی ڈرونز اور بیلسٹک میزائلوں کو فضا میں ہی کامیابی کے ساتھ روگ کر تباہ کر دیا ہے۔ یہ حملے ایک ایسے وقت میں کیے گئے ہیں جب بین الاقوامی برادری کی جانب سے مسلسل انتباہ اور مذمت کے باوجود باغیوں کی طرف سے تخریب کاری کا سلسلہ جاری ہے۔ سعودی اتحاد کے ترجمان نے ہفتے کے روز میڈیا کو جاری کردہ اپنے بیان میں بتایا کہ ان کے فضائی دفاعی نظام نے ریاض کے علاقے کی طرف روانہ کیے جانے والے دو مشتبہ ڈرونز کو کامیابی سے نشانہ بنایا اور انہیں فضا میں ہی تباہ کر دیا۔ اس کارروائی کے نتیجے میں کسی قسم کے جانی یا مالی نقصان کی کوئی اطلاع نہیں ملی ہے۔ علاوہ ازیں، ترجمان نے مزید بتایا کہ سعودی فضائی دفاعی نظام نے خمیس مشیت کی طرف داغے گئے دو بیلسٹک میزائلوں کو بھی ناکام بنا دیا۔ واضح رہے کہ خمیس مشیت سعودی عرب کا ایک اہم جنوب مغربی شہر ہے جہاں ایک بڑا فوجی اڈہ بھی واقع ہے، اور یہ علاقہ پہلے بھی حوثی حملوں کی زد میں رہ چکا ہے۔ حملوں کے بعد حوثی سیاسی بیورو کے ایک رکن حزام الاسد نے ہفتے کے روز اپنے ایک بیان میں دعویٰ کیا کہ اس فوجی کارروائی کی طاقت اور وسعت کے باوجود ان کی مسلح افواج اسے ایک بھرپور اور بڑے پیمانے پر ہونے والے حملے سے پہلے کی محض ایک ابتدائی مشق تصور کرتی ہیں۔ دوسری جانب، ان تازہ ترین حملوں پر خلیج تعاون کونسل (GCC) کے سیکرٹری جنرل جاسم محمد البدیوی نے شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے حوثی حملوں کی پرزور مذمت کی ہے۔ انہوں نے اپنے ایک سرکاری بیان میں کہا کہ یہ خطرناک اشتعال انگیزی سعودی عرب کی سالمیت اور خودمختاری کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس طرح کے اقدامات عام شہریوں کی سلامتی، بقا اور پورے خطے کے امن و استحکام کے لیے ایک براہ راست اور سنگین خطرہ ہیں جنہیں برداشت نہیں کیا جا سکتا۔