LIVE
Loading Breaking News...

میان چنوں اسپتال میں ڈائیلاسز کے چار مریضوں میں ایچ آئی وی وائرس پایا گیا

News Image
تحصیل ہیڈ کوارٹر اسپتال میان چنوں میں ڈائیلاسز کرانے والے چار مریضوں میں ایچ آئی وی وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔ متاثرہ مریضوں کو مزید علاج کے لیے ملتان کے نشتر اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔
لاہور: پنجاب کے جنوبی ضلع خانیوال کی تحصیل میان چنوں کے ہیڈ کوارٹر اسپتال میں ڈائیلاسز کی سہولت حاصل کرنے والے چار مریضوں میں ایچ آئی وی (HIV) وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔ اس لرزہ خیز واقعے کے بعد سرکاری طبی مراکز میں انفیکشن کنٹرول کے انتظامات اور ایس او پیز پر عمل درآمد پر ایک بار پھر شدید سوالیہ نشان لگ گئے ہیں۔ دستیاب رپورٹس کے مطابق متاثرہ افراد میں تین خواتین بھی شامل ہیں جو معمول کے مطابق اس اسپتال میں اپنے گردوں کا ڈائیلاسز کروا رہی تھیں۔ ابتدائی تشخیص کے بعد جب ان کے ٹیسٹ مثبت آئے تو اسپتال انتظامیہ میں ہلچل مچ گئی اور فوری طور پر تمام متاثرہ مریضوں کو بہتر طبی معائنے اور علاج کی غرض سے ملتان کے نشتر اسپتال ریفر کر دیا گیا جہاں وہ اس وقت زیر علاج ہیں۔ میان چنوں اسپتال کے ذمہ داران کا کہنا ہے کہ اس مرکز پر ساٹھ سے زائد مریضوں کا ڈائیلاسز کیا جا رہا ہے اور ان کا دعویٰ ہے کہ عام طور پر ڈائیلاسز کے عمل سے ایچ آئی وی منتقل نہیں ہو سکتا، تاہم صورتحال کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ دوسری جانب، باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ متاثرہ مریضوں کی تعداد اس سے بھی زیادہ ہو سکتی ہے کیونکہ اسپتال انتظامیہ نے مزید کیسز کی کھل کر تصدیق نہیں کی ہے۔ اس سے قبل بھی صوبہ پنجاب کے مختلف سرکاری اسپتالوں میں اس نوعیت کے متعدد ہولناک واقعات سامنے آ چکے ہیں جن میں نومبر 2024 کے دوران نشتر اسپتال ملتان کے نیفرالوجی یونٹ میں تقریباً تیس گردوں کے مریضوں میں ڈائیلاسز کے دوران ایچ آئی وی منتقل ہونے کا انکشاف ہوا تھا اور ایک مریض اس مرض کی پیچیدگیوں کی وجہ سے جاں بحق ہو گیا تھا۔ پنجاب حکومت کی جانب سے تشکیل دی گئی فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی نے بعد ازاں نشتر اسپتال میں ایچ آئی وی کے پھیلاؤ کی تصدیق کی تھی اور ڈائیلاسز کے رہنما اصولوں کی سنگین خلاف ورزیوں کی نشاندہی کی تھی۔ اس معاملے پر حکومت نے جنوری 2025 میں غفلت اور بدانتظامی کے مرتکب سینئر افسران اور طبی عملے کے خلاف پیڈا ایکٹ کے تحت کارروائی کا حکم دیا تھا۔ اس کے علاوہ تونسہ میں بھی ایک بڑا بحران سامنے آیا تھا جہاں ایک سو سے زائد بچوں میں ایچ آئی وی کی تصدیق ہوئی تھی جس پر عالمی اداروں جیسے کہ ڈبلیو ایچ او، یونیسف اور دیگر کے اشتراک سے بڑے پیمانے پر گھر گھر جا کر اسکریننگ کی گئی تھی۔ ماہرین اور طبی ماہرین مسلسل اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ سرکاری اسپتالوں میں انفیکشن کنٹرول کے نظام کو فول پروف بنایا جائے تاکہ معصوم مریضوں کی زندگیوں کو مزید خطرات سے بچایا جا سکے۔