Pakistan
جعلی دستاویزات پر نرسوں کو بیرون ملک بھیجنے پر 41 سال قید کی سزا
وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) کی مدعی پر راولپنڈی کی عدالت نے جعلی تجربے کے سرٹیفکیٹس پر 92 نرسوں کو سعودی عرب بھیجنے والے مرکزی ملزم کو اکیالیس سال قید اور بھاری جرمانے کی سزا سنا دی ہے۔ اس مکروہ دھندے میں ملوث دوسرے ملزم کو بھی عدالت نے تین سال قید کی سزا کا حکم دیا ہے۔
اسلام آباد میں وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) اسلام آباد زون نے ایک اہم کارروائی کے دوران جعلی تجربے کے سرٹیفکیٹس پر 92 نرسوں کو سعودی عرب بھیجنے والے گروہ کے مرکزی ملزم کو کیفر کردار تک پہنچا دیا ہے۔ راولپنڈی کی اسپیشل کورٹ سینٹرل کے جج عبدالرحمان محمد عارف نے اس ہائی پروفائل مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے مرکزی مجرم کو مجموعی طور پر اکیس سال نہیں بلکہ اکتالیس سال قید اور لاکھوں روپے جرمانے کی سزا سنائی ہے۔ اس حوالے سے ایف آئی اے حکام اور عدالتی ریکارڈ کا کہنا ہے کہ یہ مقدمہ سال 2024 میں پاکستان پینل کوڈ اور ایمگریشن آرڈیننس کے تحت درج کیا گیا تھا جس میں نرسوں کو جعلی دستاویزات کی بنیاد پر بیرون ملک بھجوایا گیا تھا جو کہ وہاں پہنچنے کے ایک ماہ کے اندر ہی ڈی پورٹ ہو کر واپس آ گئی تھیں۔ اس گھناؤنے فراڈ کی پیشرفت سے وزیراعظم آفس کو بھی باقاعدگی سے آگاہ کیا جاتا رہا۔
عدالت کے فیصلے کے مطابق، مرکزی ایجنٹ غلام ذوالفقار علی عرف میاں ذوالفقار کو مختلف دفعات کے تحت سخت سزائیں دی گئی ہیں۔ اس میں دفعہ 420، 468 اور 471 کے تحت سات سات سال قید اور جرمانے شامل ہیں جبکہ امیگریشن آرڈیننس 1979 کی دفعات کے تحت دس دس سال قید اور جرمانے کی سزائیں سنائی گئی ہیں۔ تمام سزائیں ساتھ ساتھ چلنے کے باوجود مجموعی طور پر یہ قید 41 سال بنتی ہے۔ اس کے علاوہ عدالت نے مجرم کو متاثرہ نرسوں کو جرمانے کی رقم بطور معاوضہ ادا کرنے کا بھی حکم دیا ہے جس کے تحت فی متاثرہ نرس ایک لاکھ روپے کے حساب سے مجموعی طور پر نو ملین روپے سے زائد کی رقم ادا کرنا ہوگی۔ یہ رقم وصول نہ ہونے کی صورت میں مجرم کو مزید قید بھگتنا ہوگی اور تمام رقم ایف آئی اے اسلام آباد زون کے ڈائریکٹر کے پاس جمع کروائی جائے گی تاکہ اسے تمام 92 متاثرہ نرسوں میں تقسیم کیا جا سکے۔
اس مقدمے میں شامل دوسرے ملزم غلام فرید کو بھی عدالت نے جرم ثابت ہونے پر تین سال کی قید باقاعدہ اور دو لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی ہے جو کہ امیگریشن آرڈیننس کے تحت دی گئی۔ تاہم، عدالت نے شک کا فائدہ دیتے ہوئے دوسرے ملزم کو بعض دیگر دفعات سے بری کر دیا۔ ایف آئی اے کی اس کامیاب کارروائی کو انسانی اسمگلنگ کے خلاف ایک بڑی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ اس سے نہ صرف پیشہ ورانہ دھوکہ دہی کرنے والوں کا قبلہ درست ہوگا بلکہ بیرون ملک جانے کے خواہشمند دیگر شہریوں کو بھی ایسے جعلی عناصر سے ہوشیار رہنے کا سخت پیغام ملا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ملک میں جعلی دستاویزات اور فراڈ کے ذریعے بیرون ملک بھیجنے والے نیٹ ورکس کے خلاف بلا امتیاز کارروائیاں جاری رہیں گی۔