LIVE
Loading Breaking News...

ستمبر میں مہنگائی کی شرح کم ہو کر 10.75 فیصد پر آنے کا تخمینہ

News Image
مختلف معاشی تجزیہ کاروں کے مطابق ستمبر میں مہنگائی کی شرح میں معمولی کمی متوقع ہے اور یہ 10.25 سے 10.75 فیصد کے درمیان رہ سکتی ہے۔ تاہم خلیجی جنگ اور عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں کے باعث معاشی غ غیر یقینی صورتحال تاحال برقرار ہے۔
کراچی: بعض مالیاتی ماہرین اور اسٹیک ہولڈرز کا خیال ہے کہ جاری خلیجی بحران اور اس کی وجہ سے پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتحال کے باوجود ستمبر کے مہینے میں مہنگائی کی شرح میں کچھ کمی دیکھنے میں آ سکتی ہے۔ مالیاتی شعبے کا اندازہ ہے کہ ستمبر کے باقی ای دنوں اور اکتوبر میں عالمی سطح پر تیل کی قیمتیں 90 سے 100 ڈالر فی بیرل کے درمیان رہیں گی۔ تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹنپ کے ایک حالیہ بیان کے بعد صورتحال ایک بار پھر تبدیل ہو چکی ہے جس میں انہوں نے ایران کی جانب سے خلیجی جنگ کے حوالے سے پیش کی گئی تجویز کو مسترد کر دیا ہے۔ اب ایران کی جانب سے ممکنہ امریکی حملوں کے خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں جس سے تیل کی قیمتوں میں ایک بار پھر تیزی کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر جنگ دوبارہ شروع ہوتی ہے تو تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل کے قریب پہنچ سکتی ہیں۔ پاکستان اپنی تیل اور گیس کی ضروریات کا 70 فیصد حصہ درآمد کرتا ہے، جس کی وجہ سے ملکی مہنگائی کا براہ راست تعلق عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں سے جڑا ہوا ہے۔ ٹاپ لائن سیکیریز کی ایک رپورٹ کے مطابق ستمبر کے لیے صارفین کی قیمتوں کا انڈیکس یعنی سی پی آئی سالانہ بنیادوں پر 10.25 سے 10.75 فیصد تک بڑھنے کا امکان ہے جو کہ اگست میں 11.1 فیصد تھا۔ اگست کے مقابلے میں یہ تخمینہ قدرے کم ضرور ہے لیکن اسے مہنگائی میں کوئی بڑی کمی قرار نہیں دیا جا سکتا کیونکہ پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ دیکھا گیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ستمبر کے لیے مہنگائی کے درست اعداد و شمار کا اندازہ لگانا اس لیے بھی مشکل ہے کیونکہ بین الاقوامی اور مقامی دونوں سطحوں پر تیل کی قیمتیں متواتر تبدیل ہو رہی ہیں۔ اس کے علاوہ بجلی، رہائش، خوراک اور تعمیراتی لاگت میں بھی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس سے خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اگر خلیجی تنازع طویل ہوا تو مہنگائی ماہرین کے اندازوں سے بھی زیادہ ہو سکتی ہے۔ تاہم پاکستان کے زر مبادلہ کے ذخائر اس وقت 21.4 ارب ڈالر سے زائد ہیں جو درآمدی بل کے دباؤ کے خلاف کچھ حد تک حفاظتی حصار فراہم کر سکتے ہیں، لیکن عالمی توانائی کی بلند قیمتوں اور تنازع کے جاری رہنے کی صورت میں مہنگائی کے دباؤ کو مکمل طور پر نہیں روک سکتے۔