Politics
اینڈی برنہم کا انتباہ: سوشل کیئر کا نظام این ایچ ایس کو تباہ کر دے گا
برطانوی سیاستدان اینڈی برنہم نے خبردار کیا ہے کہ سوشل کیئر کا موجودہ بوسیدہ نظام بالآخر این ایچ ایس کو بھی تباہ کر دے گا۔ انہوں نے اعلان کیا کہ اس حوالے سے ایک تفصیلی فلاحی سروس کا منصوبہ آئندہ عام انتخابات میں منشور کا حصہ بنایا جائے گا۔
برطانوی سیاست میں صحت اور فلاحی شعبے کے بحران پر ایک بار پھر گرما گرم بحث شروع ہو گئی ہے۔ گریٹر مانچسٹر کے مئیر اینڈی برنہم نے سخت تنبیہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں معاشری فلاح و بہبود اور سوشل کیئر کا نظام اس قدر بوسیدہ ہو چکا ہے کہ اگر اس میں فوری اصلاحات نہ کی گئیں تو یہ بالآخر نیشنل ہیلتھ سروسز یعنی این ایچ ایس کو بھی مکمل طور پر تباہ کر دے گا۔ ان کا ماننا ہے کہ دونوں ادارے ایک دوسرے کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں اور ایک کی خرابی دوسرے کے لیے جان لیوا ثابت ہو سکتی ہے۔
اینڈی برنہم نے اپنے حالیہ بیان میں اس بات پر زور دیا کہ موجودہ حکومت کو اس سنگین مسئلے سے نمٹنے کے لیے فوری اور ٹھوس اقدامات کرنا ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک میں کمزور اور بزرگ افراد کی دیکھ بھال کا نظام شدید دباؤ کا شکار ہے، جس کی وجہ سے اسپتالوں میں بستروں کی قلت پیدا ہو رہی ہے اور مریضوں کو بروقت علاج اور ڈسچارج کرنے کے عمل میں شدید رکاوٹیں حائل ہو رہی ہیں۔
اس سنگین مسئلے کا حل پیش کرتے ہوئے اینڈی برنہم نے اعلان کیا ہے کہ وہ اور ان کے ساتھی ایک جامع اور متبادل فلاحی سروس کا تفصیلی خاکہ تیار کر رہے ہیں۔ اس مجوزہ کیئر سروس کی تمام تفصیلات کو حتمی شکل دے کر آئندہ عام انتخابات کے دوران عوامی رائے کے لیے بیلٹ پر رکھا جائے گا تاکہ عوام براہ راست اس اہم پالیسی پر فیصلہ کر سکیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق برنہم کا یہ موقف آنے والے انتخابات میں ایک بڑا موضوع بن سکتا ہے۔ صحت اور فلاح و بہبود کے شعبے عام برطانوی شہری کی روزمرہ زندگی پر براہ راست اثر انداز ہوتے ہیں، اور اس بحران کا حل تلاش کرنا اب تمام سیاسی جماعتوں کے لیے ناگزیر بن چکا ہے۔ عوام کی جانب سے بھی اس نئی مجوزہ پالیسی کا شدت سے انتظار کیا جا رہا ہے۔