LIVE
Loading Breaking News...

یورپی یونین کا سبتہ میں تارکین وطن کے بحران پر ہنگامی اجلاس

News Image
یورپی یونین نے اسپین کے انکلیو سبتہ میں تارکین وطن کی اچانک آمد پر کشیدہ صورتحال پر غور کرنے کے لیے ایک ہنگامی اجلاس طلب کر لیا ہے۔ اس پیشرفت کا مقصد رکن ممالک کے درمیان اختلافات کو ختم کر کے ایک مشترکہ لائحہ عمل طے کرنا ہے۔
یورپی یونین نے اسپین کے شمالی افریقہ میں واقع نیم خودمختار انکلیو سبتہ میں تارکین وطن کی بڑی تعداد میں آمد کے بعد پیدا ہونے والی کشیدہ صورتحال پر قابو پانے کے لیے ایک ہنگامی اجلاس طلب کیا ہے۔ اس اجلاس کا بنیادی مقصد اسپین اور دیگر یورپی یونین کے رکن ممالک کے درمیان اس بحران پر پیدا ہونے والے اختلافات کو دور کرنا اور آئندہ کے لیے ایک مؤثر لائحہ عمل مرتب کرنا ہے۔ حالیہ دنوں میں سبتہ کی سرحدوں پر جس طرح تارکین وطن کا دباؤ بڑھا ہے، اس نے یورپی ممالک کی سرحدی سیکیورٹی اور پناہ گزینوں سے متعلق پالیسیوں پر ایک بار پھر سوالیہ نشان کھڑے کر دیے ہیں۔ اسپین اور دیگر یورپی یونین کے کچھ اہم رکن ممالک کے درمیان اس مسئلے پر تلخ تبادلہ خیال بھی دیکھنے میں آیا ہے۔ جہاں ایک طرف اسپین اس بات پر زور دے رہا ہے کہ تارکین وطن کے اس اچانک سیلاب سے نمٹنے کے لیے پورے بلاگ کو مشترکہ طور پر مالی اور انتظامی تعاون فراہم کرنا چاہیے، وہیں دوسری طرف بعض یورپی ممالک کا موقف ہے کہ سرحدی قوانین کو مزید سخت کرنے کی ضرورت ہے۔ سبتہ اور ملیلیہ جیسے علاقے افریقہ سے یورپ میں داخل ہونے والے تارکین وطن کے لیے سب سے اہم زمینی راستے مانے جاتے ہیں، جہاں اکثر اوقات حفاظتی دستوں اور تارکین وطن کے درمیان کشیدگی پیدا ہو جاتی ہے۔ طلب کیے گئے اس ہنگامی اجلاس میں یورپی کمیشن کے اعلیٰ حکام کے علاوہ تمام متعلقہ ممالک کے نمائندے شرکت کر رہے ہیں۔ اجلاس کے دوران سرحدی سیکیورٹی کو مزید مضبوط بنانے، تارکین وطن کی ریلیف اور بحالی کے امور اور تارکین وطن کے اصل ممالک کے ساتھ سفارتی سطح پر رابطے تیز کرنے کے فیصلوں پر غور کیا جا رہا ہے۔ یورپی یونین کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ اس انسانی بحران کا حل صرف اجتماعی کوششوں کے ذریعے ہی ممکن ہے، اور کسی ایک ملک کو تنہا اس بوجھ کا سامنا نہیں کرنا چاہیے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر یورپی یونین نے اس معاملے پر فوری اور متفقہ پالیسی نہ اپنائی تو آنے والے مہینوں میں بحران مزید سنگین ہو سکتا ہے۔ سبتہ کی اس تازہ صورتحال نے ایک بار پھر یورپی یونین کے اندرونی نظم و نسق اور تارکین وطن سے متعلق قوانین میں اصلاحات کی اشد ضرورت کو اجاگر کر دیا ہے۔ اجلاس کے اختتام پر متوقع طور پر ایک نئے مشترکہ اعلامیے کا اعلان کیا جائے گا جس میں سرحدی انتظامات کو بہتر بنانے کے لیے خصوصی فنڈز اور اقدامات کی منظوری دی جا سکتی ہے۔