LIVE
Loading Breaking News...

غزہ میں انروا کی عدم موجودگی اور بورڈ آف پیس کا کردار

News Image
بورڈ آف پیس نے غزہ میں اقوام متحدہ کے ریلیف اینڈ ورکس ایجنسی (انروا) کو باہر کر دیا ہے، جو کہ اسرائیلی مؤقف سے ہم آہنگ ہے۔ یہ فیصلہ خطے میں امدادی سرگرمیوں اور انسانی صورتحال پر گہرے اثرات مرتب کر سکتا ہے۔
بین الاقوامی سطح پر غزہ کی صورتحال پر نظر رکھنے والے ادارے 'بورڈ آف پیس' نے اپنے ایک تازہ ترین فیصلے میں غزہ کے امور میں اقوام متحدہ کی ریلیف اینڈ ورکس ایجنسی (انروا) کو کسی بھی قسم کے کردار سے باہر کر دیا ہے۔ اس اقدام کو عالمی حلقوں میں انتہائی اہم اور تشویشناک قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ انروا طویل عرصے سے فلسطینی پناہ گزینوں کی فلاح و بہبود اور بنیادی امداد کی فراہمی میں مرکزی حیثیت رکھتی ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق یہ فیصلہ عملاً اسرائیل کے ان مطالبات کی تائید کرتا ہے جن میں مسلسل یہ کہا جا رہا تھا کہ اس فلاحی ادارے کو غزہ کے مستقبل کے انتظامات سے دور رکھا جائے۔ دوسری جانب، انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس فیصلے پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے پہلے ہی محصور اور تباہ حال غزہ کے عوام کی مشکلات میں مزید اضافہ ہو جائے گا۔ خوراک، ادویات اور پناہ کی فراہمی کے حوالے سے پہلے ہی شدید بحران کا سامنا ہے اور انروا کو ہٹانے سے یہ بحران مزید سنگین صورت اختیار کر سکتا ہے۔ اقوام متحدہ کے متعلقہ اداروں اور امدادی کارکنوں کا کہنا ہے کہ انروا کے متبادل کے طور پر کسی دوسرے موثر ادارے کی عدم موجودگی میں عام شہریوں کی زندگیوں کو شدید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔ اس فیصلے کے بعد خطے میں انسانی ہمدردی کی بنیاد پر کی جانے والی امدادی کارروائیوں کا مستقبل تاریک دکھائی دے رہا ہے، اور عالمی برادری اس پیش رفت پر منقسم نظر آتی ہے۔ آنے والے دنوں میں اس فیصلے کے سیاسی اور انسانی اثرات کیا ہوں گے، یہ تو وقت ہی بتائے گا، لیکن فی الحال غزہ کے مظلوم عوام ایک بار پھر غیر یقینی صورتحال کے دہانے پر کھڑے ہیں۔