World
مغربی کنارے میں فلسطینیوں کا بحران، غربت اور قرضوں میں اضافہ
مغربی کنارے کے شہر طولکرم اور دیگر علاقوں میں بے گھر فلسطینی روزگار اور بنیادی سہولیات سے محروم ہو چکے ہیں۔ اس بحران کی وجہ سے متاثرہ خاندان بدترین غربت اور بڑھتے ہوئے قرضوں کے دلدل میں دھنس رہے ہیں۔
مغربی کنارے کے شہر طولکرم اور دیگر علاقوں میں جاری کشیدگی اور حالات کی خرابی کے باعث بے گھر ہونے والے فلسطینیوں کو شدید ترین معاشی مشکلات کا سامنا ہے۔ نقل مکانی کرنے والے یہ افراد نہ صرف اپنے گھروں سے دور کسمپرسی کی زندگی گزار رہے ہیں بلکہ وہ تیزی سے غربت اور قرضوں کے بوجھ تلے دبتے جا رہے ہیں۔ روزگار کے ذرائع نہ ہونے کی وجہ سے ان کے لیے روزمرہ کی بنیادی ضروریاتِ زندگی پورا کرنا بھی ایک ناممکن امر بن چکا ہے۔ متاثرہ خاندانوں کا کہنا ہے کہ ان کے ہاتھ بالکل خالی ہیں اور امدادی سرگرمیوں میں کمی کی وجہ سے ان کی مشکلات میں مزید اضافہ ہو رہا ہے۔
مقامی ذرائع کے مطابق طولکرم کے پناہ گزینوں اور بے گھر ہونے والے شہریوں کو خوراک، صاف پانی اور طبی سہولیات کی فراہمی میں بھی شدید رکاوٹوں کا سامنا ہے۔ بچوں اور خواتین کی حالت زار خاص طور پر تشویشناک ہے، جنہیں سر چھپانے کے لیے محفوظ مقامات کی کمی اور سردی یا گرمی کے اثرات سے بچاؤ کے لیے مناسب انتظامات میسر نہیں ہیں۔ لوگ اپنے عزیز و اقارب یا دوستوں سے قرض لے کر گزارا کرنے پر مجبور ہیں، لیکن طویل المدتی بے روزگاری کی وجہ سے ان قرضوں کی واپسی کے امکانات بھی معدوم ہوتے جا رہے ہیں، جس سے معاشی دباؤ میں خطرناک حد تک اضافہ ہو رہا ہے۔
بین الاقوامی اداروں اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے مغربی کنارے میں بگڑتی ہوئی اس معاشی اور انسانی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر فوری طور پر بین الاقوامی امداد اور بحالی کے اقدامات شروع نہ کیے گئے تو صورتحال مزید قابو سے باہر ہو جائے گی۔ بے گھر فلسطینیوں کا یہ المیہ صرف عارضی رہائش کا نہیں بلکہ ان کی بقا کی جنگ بن چکا ہے، جہاں ہر گزرتے دن کے ساتھ ان کی مشکلات میں اضافہ ہو رہا ہے اور وہ غربت کے ایک نہ ختم ہونے والے چکر میں پھنستے جا رہے ہیں۔