World
اسرائیلی وزیر کا مقبوضہ مغربی کنارے میں جنگ کا مطالبہ
اسرائیلی وزیر بیزلیل سموٹرچ نے مقبوضہ مغربی کنارے میں جنگ شروع کرنے کا مطالبہ کر دیا ہے۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اسرائیلی حکام نے یہودی تہوار سکوت کے باعث مغربی کنارے میں فوجی ناکہ بندی کا اعلان کیا ہے۔
اسرائیل کی کابینہ کے انتہائی دائیں بازو کے وزیر بیزلیل سموٹرچ نے مقبوضہ مغربی کنارے میں مکمل جنگ شروع کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کے اس بیان نے خطے میں جاری کشیدگی میں مزید اضافے کا خدشہ پیدا کر دیا ہے، جہاں پہلے ہی فلسطینی آبادی کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ بیزلیل سموٹرچ اپنے جارحانہ مؤقف اور بستیوں کی توسیع کی حمایت کے حوالے سے جانے جاتے ہیں، اور ان کا یہ تازہ ترین بیان مقبوضہ علاقوں میں سیکورٹی کی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا سکتا ہے۔
یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب اسرائیلی حکام نے مقبوضہ مغربی کنارے میں سخت فوجی ناکہ بندی اور پابندیوں کا اعلان کیا ہے۔ حکام کے مطابق یہ اقدامات یہودی تہوار سکوت کے موقع پر سکیورٹی خدشات اور انتظامات کے تحت اٹھائے گئے ہیں۔ اس فوجی بندش کے باعث مغربی کنارے کے مختلف شہروں اور قصبوں کے درمیان نقل و حرکت شدید متاثر ہوئی ہے، جس سے عام فلسطینی شہریوں کی روزمرہ زندگی اور معاشی سرگرمیاں بھی رک گئی ہیں۔
بین الاقوامی برادری اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس طرح کے بیانات اور اقدامات پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے اشتعال انگیز مطالبات اور فوجی ناکہ بندیوں سے خطے میں دیرپا امن کی کوششوں کو شدید دھچکا لگتا ہے اور تشدد کے ایک نئے سلسلے کا آغاز ہو سکتا ہے۔ فلسطینی قیادت اور عوام نے بھی اس صورتحال کی مذمت کی ہے اور دنیا سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اسرائیلی اقدامات کا نوٹس لے۔
مقبوضہ مغربی کنارے میں موجودہ حالات کے پیش نظر کشیدگی میں مزید اضافے کا خطرہ برقرار ہے۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اسرائیلی وزیر کا یہ بیان نہ صرف اندرونی سیاست کا حصہ ہے بلکہ یہ خطے میں زمینی حقائق کو یکطرفہ طور پر تبدیل کرنے کی ایک اور کوشش بھی ہے۔ آنے والے دنوں میں اس صورتحال کے خطے پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں، اس کا انحصار عالمی طاقتوں کے ردعمل اور مقامی سطح پر ہونے والے سکیورٹی فیصلوں پر ہوگا۔