LIVE
Loading Breaking News...

یمن کی سرکاری افواج کی حوثیوں کے خلاف کارروائیاں تیز

News Image
یمنی حکومت کی فورسز نے گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران تعز کے مختلف علاقوں میں زمینی اور فضائی کارروائیوں کو تیز کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ یہ کارروائی حوثی باغیوں کے خلاف جنگ میں ایک اہم پیش رفت کے طور پر دیکھی جا رہی ہے۔
یمن میں سرکاری افواج نے حوثی باغیوں کے خلاف اپنی عسکری کارروائیوں کا دائرہ کار مزید وسیع کر دیا ہے۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق، یمنی حکومت کی فورسز نے گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران ملک کے اسٹریٹجک لحاظ سے اہم شہر تعز کے مختلف حصوں میں متعدد فضائی اور زمینی آپریشنز کیے ہیں۔ ان کارروائیوں کا بنیادی مقصد حوثی جنگجوؤں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانا اور ان کے زیراثر علاقوں میں پیش قدمی کرنا ہے۔ فوجی ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ حملے حالیہ کشیدگی میں اضافے کا حصہ ہیں اور حکومتی فورسز نے حوثیوں کے خلاف حکمت عملی کو تبدیل کرتے ہوئے دباؤ بڑھا دیا ہے۔ تعز میں ہونے والی ان جھڑپوں اور کارروائیوں کے نتیجے میں دونوں جانب سے نقصانات کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے، تاہم سرکاری سطح پر تاحال جانی نقصان کے حتمی اعداد و شمار جاری نہیں کیے گئے ہیں۔ علاقے کے مکینوں کے مطابق، گزشتہ ایک دن کے دوران شدید گولہ باری اور فائرنگ کی آوازیں سنی گئی ہیں جس کی وجہ سے عام شہریوں میں خوف و ہراس پھیل گیا ہے۔ سکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ یمن میں جاری اس طویل تنازع کے دوران تعز کا محاصرہ اور وہاں ہونے والی جھڑپیں انتہائی اہمیت کی حامل ہیں، کیونکہ اس خطے پر کنٹرول حاصل کرنا دونوں فریقین کے لیے جنگ کا رخ موڑ سکتا ہے۔ بین الاقوامی برادری اور فلاحی ادارے یمن کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر مسلسل تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔ تازہ ترین فوجی کارروائیوں کے بعد انسانی ہمدردی کے تحت امدادی سرگرمیوں کو شدید دھکا لگنے کا اندیشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ یمنی حکومت کی جانب سے یہ عزم ظاہر کیا گیا ہے کہ ملک میں امن کی بحالی اور ریاستی رٹ قائم کرنے کے لیے حوثیوں کے خلاف یہ کارروائیاں اس وقت تک جاری رہیں گی جب تک اہداف حاصل نہیں ہو جاتے۔