World
برطانیہ میں فلسطین حامی احتجاج: میسیو اٹیک کے گلوکار گرفتار
برطانوی راک بینڈ میسیو اٹیک کے گلوکار کو فلسطین کے حق میں ہونے والے ایک احتجاجی مظاہرے کے دوران حراست میں لے لیا گیا۔ پولیس نے اس حوالے سے کارروائی کرتے ہوئے مزید تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
برطانیہ میں فلسطین کے حق میں منعقدہ ایک احتجاجی مظاہرے کے دوران دنیا بھر میں مشہور راک بینڈ 'میسیو اٹیک' کے معروف گلوکار کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔ اس واقعے نے بین الاقوامی سطح پر توجہ حاصل کر لی ہے اور انسانی حقوق کے حامی حلقوں کی طرف سے اس پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ پولیس حکام کے مطابق یہ گرفتاری حالیہ دنوں میں ہونے والی مظاہروں کے سلسلے کے دوران عمل میں لائی گئی۔ برطانوی میڈیا کے مطابق گلوکار کی گرفتاری کے بعد سے ان کے مداحوں اور حامیوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے اور سوشل میڈیا پر بھی اس واقعے پر شدید ردعمل سامنے آ رہا ہے۔ پولیس اس پورے معاملے کی قانونی پہلوؤں سے جانچ پڑتال کر رہی ہے جبکہ منتظمین نے بھی اس گرفتاری کے خلاف آواز بلند کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ حالیہ مہینوں میں برطانیہ سمیت کئی مغربی ممالک میں فلسطین کے حق میں مظاہرے روز کا معمول بن چکے ہیں جن میں فنکار، طلباء اور عام شہری بڑی تعداد میں شرکت کر رہے ہیں۔ انتظامیہ کی جانب سے بعض مقامات پر احتجاج کو محدود کرنے کی کوششیں بھی کی گئی ہیں جس کے نتیجے میں پولیس اور مظاہرین کے درمیان وقتاً فوقتاً کشیدگی دیکھنے میں آتی ہے۔ مبصرین کا ماننا ہے کہ اس گرفتاری کے بعد برطانیہ میں فلسطین کی حمایت میں ہونے والے احتجاجی مظاہروں میں مزید تیزی آ سکتی ہے کیونکہ معروف شخصیات کی شمولیت اس تحریک کو ایک نئی سمت اور تقویت دے رہی ہے۔ گلوکار کے حوالے سے آئندہ قانونی کارروائی اور عدالت میں پیشی کے حوالے سے بھی جلد ہی مزید تفصیلات سامنے آنے کی توقع ہے۔