World
ایران کی بحیرہ کیسپین کی طرف تجارتی منتقلی اور تیل کی برآمدات
ایران نے جنوبی بندرگاہوں پر امریکی ناکہ بندی اور جنگی صورتحال کے پیش نظر اپنی تجارت کا رخ شمال کی طرف موڑ لیا ہے۔ اب توانائی اور برآمدات کے لیے بحیرہ کیسپین کے راستے نئے تجارتی راستے تلاش کیے جا رہے ہیں۔
تہران کی جانب سے ایک اہم اسٹریٹجک فیصلے کے تحت اپنی تجارت اور تیل کی برآمدات کا رخ شمال کی طرف بحیرہ کیسپین کی جانب موڑ دیا گیا ہے۔ یہ اقدام اس وقت سامنے آیا ہے جب روایتی جنوبی سمندری راستوں اور آبِ ہرمز میں جنگی کشیدگی اور امریکی ناکہ بندی کی وجہ سے تجارتی سرگرمیاں شدید متاثر ہو چکی ہیں۔ ایران طویل عرصے سے اپنی معیشت اور تیل کی ترسیل کے لیے جنوبی بندرگاہوں اور آبِ ہرمز پر انحصار کرتا رہا ہے، لیکن حالیہ جیو پولیٹیکل تناؤ نے تہران کو متبادل راستے تلاش کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اس تبدیلی سے ایران کو اپنی معیشت کو سہارا دینے اور بین الاقوامی منڈیوں تک رسائی برقرار رکھنے میں مدد ملے گی۔ بحیرہ کیسپین کے ساحلی ممالک کے ساتھ تجارتی تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کے لیے تہران حکومت تیزی سے بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنا رہی ہے۔ اس ضمن میں بندرگاہوں کی توسیع، ریلوے لائنوں کی رابطہ کاری اور بحری جہاز رانی کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کیا جا رہا ہے تاکہ شمالی کوریڈور کے ذریعے تیل اور دیگر اشیاء کی ترسیل بلا تعطل جاری رہ سکے۔ ایرانی حکام کا یہ بھی کہنا ہے کہ یہ قدم نہ صرف ملکی تجارت کو محفوظ بنائے گا بلکہ خطے کے دوسرے ممالک کے ساتھ دو طرفہ اقتصادی تعاون کو بھی فروغ دے گا، جو امریکی پابندیوں کے اثرات کو زائل کرنے میں اہم ثابت ہوگا۔