LIVE
Loading Breaking News...

اسرائیلی انتخابات: نیتن யاہو کا اپوزیشن اتحاد پر کڑا تنقیدی وار

News Image
اسرائیلی وزیرِ اعظم بنجمن نیتن யاہو نے انتخابات میں کامیابی کے لیے پانچ اپوزیشن رہنماؤں کے باہمی اتحاد کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ یہ اپوزیشن جماعتیں 27 اکتوبر کے انتخابات میں اکثریت حاصل کرنے اور ووٹرز کی ٹرن آؤٹ بڑھانے کے لیے مل کر کام کر رہی ہیں۔
اسرائیل کی سیاست میں گرما گرمی اس وقت مزید بڑھ گئی جب ملک کے وزیرِ اعظم بنجمن نیتن யاہو نے حزبِ اختلاف کے رہنماؤں کے نئے اتحاد پر کڑی تنقید کی ہے۔ واضح رہے کہ آنے والے انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے اور حکومتی پالیسیوں کو چیلنج کرنے کے لیے پانچ مختلف اپوزیشن رہنماؤں نے ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرنے کا باضابطہ فیصلہ کیا ہے۔ اس سیاسی پیشرفت کا بنیادی مقصد ووٹرز کی تعداد میں اضافہ کرنا اور 27 اکتوبر کو ہونے والے انتخابات میں پارلیمانی اکثریت حاصل کرنا ہے۔ حزبِ اختلاف کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ ملک کو موجودہ سیاسی جمود اور بحران سے نکالنے کے لیے ایک متحد محاذ کی اشد ضرورت تھی۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ پولنگ کے دن بڑھ چڑھ کر حصہ لیں تاکہ تبدیلی لائی جا سکے۔ دوسری طرف، وزیرِ اعظم بنجمن نیتن யاہو نے اس اتحاد کو محض ذاتی مفادات کی سیاست قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے اور ووٹرز کو خبردار کیا ہے کہ اس قسم کے کمزور اور متضاد اتحاد ملک کے استحکام کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں۔ اسرائیلی میڈیا کے مطابق، نیتن யاہو نے اپنی انتخابی مہم کے دوران اس بات پر زور دیا ہے کہ ان کی جماعت ملک کو درپیش اندرونی اور بیرونی خطرات سے نبرد آزما ہونے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہے۔ انہوں نے اپوزیشن پر الزام عائد کیا کہ وہ صرف اقتدار کے حصول کے لیے اکٹھی ہوئی ہے اور ان کے پاس ملک کے مستقبل کے لیے کوئی مستحکم وژن موجود نہیں ہے۔ انتخابی تاریخ قریب آنے کے ساتھ ہی دونوں طرف سے بیانات کا سلسلہ تیز ہو چکا ہے اور آنے والے دنوں میں سیاسی کشیدگی میں مزید اضافے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔