World
آسسلینڈ کا نیتن याهو کے بیان پر ردعمل، یو این جی اے تنازعہ
آسسلینڈ کی وزیر خارجہ نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں اسرائیلی وزیر اعظم کے خطاب کے دوران واک آؤٹ کرنے والے سفارت کاروں کو 'اخلاقی بزدل' کہنے پر سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی برادری کی طرف سے اسرائیل کی پالیسیوں پر آواز اٹھانا بزدلی نہیں بلکہ اصولوں کی بات ہے۔
آسسلینڈ کی وزیر خارجہ نے اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کے اس بیان پر شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے جس میں انہوں نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی (UNGA) کے اجلاس کے دوران اپنے خطاب پر ہال سے واک آؤٹ کرنے والے سفارت کاروں کو 'اخلاقی بزدل' قرار دیا تھا۔ آسسلینڈ کی اعلیٰ سفارت کار نے واضح کیا کہ سفارتی سطح پر اپنے تحفظات کا اظہار کرنا اور مظلوموں کے حق میں آواز اٹھانا بزدلی کے زمرے میں نہیں آتا، بلکہ یہ اصولوں اور بین الاقوامی قوانین کی پاسداری ہے۔
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس کے دوران جب اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے خطاب کے لیے ڈائس سنبھالا تو دنیا بھر سے تعلق رکھنے والے کئی ممالک کے مندوبین اور سفارت کار احتجاجاً ہال سے باہر چلے گئے تھے۔ ان ممالک کا مقصد غزہ اور مشرق وسطیٰ میں جاری تنازعے اور انسانی حقوق کی مبینہ خلاف ورزیوں پر اسرائیل کے تئیں اپنے شدید تحفظات ریکارڈ کروانا تھا۔ اس احتجاج کو عالمی سطح پر اسرائیل کی پالیسیوں کے خلاف ایک بڑا سفارتی پیغام مانا گیا تھا۔
اسرائیلی وزیر اعظم نے اپنے خطاب کے بعد ان سفارت کاروں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انہیں 'اخلاقی بزدل' قرار دیا تھا، جس پر بین الاقوامی برادری کی جانب سے مختلف ردعمل سامنے آئے۔ آسسلینڈ کی وزیر خارجہ نے اس بیان کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ جمہوریت اور احتجاج کا حق ہر ملک اور اس کے نمائندوں کو حاصل ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ دنیا کو انسانی بحران پر خاموش رہنے کے بجائے امن کے قیام کے لیے عملی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے، اور سفارت کاروں کا واک آؤٹ دراصل اس بات کا ثبوت ہے کہ عالمی ضمیر ابھی زندہ ہے۔