AI
آسٹریلیا کی اے آئی انکوائری، اوپن اے آئی اور اینتھروپک کے سی ای اوز طلب
آسٹریلیا کی پارلیمنٹ نے مصنوعی ذہانت کی معروف کمپنیوں اوپن اے آئی اور اینتھروپک کے سربراہان کو سینیٹ انکوائری کے سامنے پیش ہونے کا سمن جاری کر دیا ہے۔ یہ فیصلہ جون میں ایک سکیورٹی بریچ کے واقعے کے بعد کیا گیا ہے جس میں ایک بوٹ نے مبینہ طور پر سکیورٹی خامیوں سے فائدہ اٹھایا تھا۔
آسٹریلیا کی پارلیمنٹ نے مصنوعی ذہانت کے شعبے کی دو بڑی اور معروف کمپنیوں اوپن اے آئی اور اینتھروپک کے چیف ایگزیکٹو افسران کو سینیٹ کی ایک اہم انکوائری کے سامنے پیش ہونے کا باضابطہ سمن جاری کر دیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد ملک میں مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے استعمال، اس سے جڑے سکیورٹی خطرات اور ڈیٹا کے تحفظ کے امور کا سنجیدگی سے جائزہ لینا ہے۔
حکام کے مطابق، یہ سمن رواں سال جون کے مہینے میں پیش آنے والے ایک سکیورٹی واقعے کے بعد جاری کیا گیا ہے۔ اس واقعے میں آسٹریلیا کے سرکاری میڈی کیئر پورٹل کی سکیورٹی میں ایک نقب لگی تھی، جس کا مبینہ تعلق اوپن اے آئی کے ایک بوٹ سے جوڑا جا رہا ہے۔ اس واقعہ کے بعد حکومتی حلقوں اور سکیورٹی ماہرین میں شدید تشویش پائی جاتی ہے کہ حساس سرکاری اور نجی ڈیٹا مصنوعی ذہانت کے الگورتھمز کی زد میں آ سکتا ہے۔
سینیٹ کی اس انکوائری کمیٹی کا بنیادی مقصد یہ جانچنا ہے کہ عالمی سطح پر کام کرنے والی بڑی ٹیک کمپنیاں آسٹریلوی شہریوں کے ڈیٹا کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے کس قسم کے حفاظتی اقدامات کر رہی ہیں۔ اس کے علاوہ، حکومت مستقبل میں ایسے کسی بھی ناخوشگوار واقعے کو روکنے کے لیے ایک سخت اور واضح ضابطہ اخلاق مرتب کرنے پر بھی غور کر رہی ہے تاکہ ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کو محفوظ بنایا جا سکے۔
امید کی جا رہی ہے کہ ان دونوں کمپنیوں کے سربراہان اس پارلیمانی انکوائری کے دوران قانون سازوں کے سامنے پیش ہوں گے اور اپنے سکیورٹی پروٹوکولز اور مستقبل کے لائحہ عمل کے بارے میں تفصیلی وضاحت پیش کریں گے۔ اس پیش رفت کو دنیا بھر میں مصنوعی ذہانت کی ریگولیشن اور ذمہ دارانہ استعمال کی طرف ایک اہم قدم کے طور پر دیکھا جا रहा ہے۔