LIVE
Loading Breaking News...

وزارت اطلاعات کا افغان طالبان کے الزامات پر ردعمل

News Image
وزارتِ اطلاعات نے افغانستان کے صوبہ نورستان میں اندرونی جھڑپوں میں پاکستانی سیکیورٹی فورسز کے ملوث ہونے کے افغان طالبان کے دعوؤں کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔ اسلام آباد نے کابل پر زور دیا ہے کہ وہ اپنی اندرونی ناکامیوں کا ملبہ پاکستان پر ڈالنے کے بجائے افغان سرزمین کو دہشت گردی کے لیے استعمال ہونے سے روکے۔
اسلام آباد: وزارتِ اطلاعات نے اتوار کے روز افغان طالبان کے اس دعوے کو سختی سے مسترد کر دیا ہے جس میں نورستان کے صوبے میں ہونے والی مبینہ اندرونی جھڑپوں میں پاکستانی فورسز کے ملوث ہونے کا الزام لگایا گیا تھا۔ وزارتِ اطلاعات کے فیکٹ چیک اکاؤنٹ کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ افغان طالبان کی طرف سے پاکستان کو اس تشدد سے جوڑنے والی باتیں بالکل فضول، بے بنیاد اور حقیقت سے کوسوں دور ہیں۔ بیان میں واضح کیا گیا کہ اسلام آباد اپنی سیکورٹی فورسز یا انٹیلی جنس اداروں کے افغانستان میں کسی بھی اندرونی جھڑپ، بشمول سابق افغان سیکیورٹی اہلکاروں کی بھرتی یا تربیت اور داعش یا کسی دوسرے دہشت گرد گروپ کی سہولت کاری میں ملوث ہونے کے تمام من گھڑت الزامات کو یکسر مسترد کرتا ہے۔ یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب افغانستان کی وزارتِ دفاع نے دعویٰ کیا تھا کہ پاکستان کے حمایت یافتہ افراد نے سرحد پار کی تھی اور وہ مبینہ تشدد میں ملوث تھے۔ وزارتِ اطلاعات نے نشاندہی کی کہ اس بات کا کوئی ایک بھی ثبوت فراہم نہیں کیا گیا جو پاکستان کے ملوث ہونے کو ثابت کر سکے، اور نہ ہی کوئی شناخت، دستاویزات، مواصلات یا آزادانہ تصدیق پیش کی گئی۔ وزارت نے مزید کہا کہ سوشل میڈیا پر پھیلائی جانے والی مبینہ ویڈیو میں صرف چند ایسے ناتجربہ کار افراد کو دکھایا گیا ہے جو مناسب لباس یا سازوسامان سے بھی لیس نہیں ہیں اور یہ سب افغان طالبان کی طرف سے پہلے سے طے شدہ ڈرامے کا حصہ معلوم ہوتا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ افغان طالبان اپنی اندرونی سیکیورٹی کی ناکامیوں کا ذمہ دار بیرونی طاقتوں کو ٹھہرانے کے بجائے اپنی سرزمین پر موجود دہشت گرد تنظیموں کے خلاف قابلِ اعتبار اور قابلِ تصدیق کارروائی کریں۔ وزارت نے اس بات پر بھی روشنی ڈالی کہ افغانستان کے اندر دہشت گردوں کے تمام گروہوں کی موجودگی اقوام متحدہ اور دیگر بین الاقوامی اداروں کی رپورٹس میں بخوبی دستاویزی شکل میں موجود ہے۔ پاکستان نے افغان طالبان سے بارہا یہ مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنی سرزمین بالخصوص کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے ٹھکانوں کو ختم کریں جو پاکستان میں حملوں کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔ اسلام آباد کا کہنا ہے کہ سرحدی سلامتی اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پاکستان کے تحفظات کو دور کرنا افغان عبوری حکومت کی بنیادی ذمے داری ہے۔