LIVE
Loading Breaking News...

حکومت کی نجکاری پالیسی اور تجارتی سرگرمیوں میں کمی پر اہم بیان

News Image
وفاقی حکام کا کہنا ہے کہ حکومت تجارتی سرگرمیوں میں ریاست کا کردار بتدریج کم کر رہی ہے اور نجکاری کے ایجنڈے پر بھرپور طریقے سے عمل پیرا ہے۔ اس پالیسی کا مقصد معیشت میں نجی شعبے کو فروغ دینا اور قومی اداروں کے مالی بوجھ کو کم کرنا ہے۔
وفاقی حکومت نے اپنے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ تجارتی سرگرمیوں میں ریاست کا کردار بتدریج کم کیا جائے گا اور ملک میں معاشی اصلاحات کے تحت نجکاری کے عمل کو مزید تیز کیا جائے گا۔ حکام کے مطابق اس پالیسی کا بنیادی مقصد قومی خزانے پر بوجھ بننے والے اداروں کی اصلاح اور نجی شعبے کو معیشت میں کلیدی کردار ادا کرنے کا موقع فراہم کرنا ہے۔ حکومت اس بات پر یقین رکھتی ہے کہ پائیدار معاشی ترقی کے لیے ضروری ہے کہ کاروبار حکومت نہیں بلکہ نجی ادارے چلائیں۔ اسی پس منظر میں قومی ایئر لائن پی آئی اے اور دیگر اہم کمرابیل منصوبوں کی نجکاری کے حوالے سے بھی مشاورت اور عملی اقدامات جاری ہیں۔ وزارتِ خزانہ کے ذرائع کے مطابق نئے طیاروں کی خریداری یا لیزنگ کے معاملے میں بھی حکومت کی طرف سے کوئی براہ راست سرکاری فنانسنگ یا خودمختار ضمانتوں کے حامل قرضے فراہم نہیں کیے جا رہے ہیں، تاکہ نجی سرمایہ کاری کے لیے ایک شفاف اور مسابقتی ماحول پیدا کیا جا سکے۔ بوئینگ اور دیگر عالمی اداروں کے ساتھ بھی طیاروں کے تجارتی تجاویز پر بات چیت جاری ہے تاکہ قومی کیریئر کے معاملات کو بہتر بنایا جا سکے۔ اس کے علاوہ، وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف سے حال ہی میں پاکستانی نوجوان رہنماؤں، کاروباری شخصیات اور پروفیشنلز کے ایک وفد نے بھی ملاقات کی ہے۔ ملاقات کے دوران ملک میں کاروباری ماحول کو بہتر بنانے، سٹارٹ اپس کو فروغ دینے اور نوجوانوں کو معاشی دھارے میں شامل کرنے کے لیے حکومتی اقدامات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ حکومت کا ماننا ہے کہ ملک کے نوجوان کاروباری طبقے کو سہولیات فراہم کر کے برآمدات میں اضافہ کیا جا سکتا ہے اور ملک کو موجودہ مالی مشکلات سے نکالا جا سکتا ہے۔ ماہرینِ معیشت نے حکومت کے اس قدم کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ ریاستی اداروں کے خسارے کو ختم کرنے کا واحد حل یہی ہے کہ ان کی نجکاری کی جائے یا پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت چلایا جائے۔ بین الاقوامی مالیاتی اداروں اور سرمایہ کاروں کی طرف سے بھی اس پالیسی کو مثبت قرار دیا جا رہا ہے۔ حکومت پرامید ہے کہ ان اصلاحات کے نتیجے میں ملک میں براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری میں اضافہ ہوگا اور طویل مدت میں معیشت مستحکم ہوگی۔