World
افغانستان میں جھڑپیں: اٹھائیس جنگجو ہلاک، پاکستان اور کابل میں کشیدگی
افغان حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان سے سرحد پار کرنے والے اٹھائیس جنگجوؤں کو سکیورٹی فورسز نے ہلاک کر دیا ہے۔ دوسری جانب اسلام آباد اور کابل کے درمیان الزامات کا سلسلہ بھی جاری ہے۔
کابل اور اسلام آباد کے درمیان سرحدی امور پر کشیدگی ایک بار پھر عروج پر پہنچ گئی ہے، جہاں افغان حکام کا دعویٰ ہے کہ پاکستان سے مبینہ طور پر سرحد عبور کرنے والے اٹھائیس جنگجوؤں کو ہلاک کر دیا گیا ہے۔ اس واقعے کے بعد دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان الزامات اور جوابی الزامات کا سلسلہ بھی تیز ہو گیا ہے، جس سے خطے میں سکیورٹی کی صورتحال پر نئے سوالات اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔ افغان ذرائع کے مطابق یہ ہلاکتیں اس وقت ہوئیں جب مبینہ طور پر سابق افغان سکیورٹی اہلکاروں سمیت درجنوں افراد پر مشتمل گروہ نے پاکستانی سرحد سے افغانستان میں داخل ہونے کی کوشش کی۔ اس دوران جھڑپ میں اڑتیس افراد کے زخمی ہونے کی بھی اطلاعات موصول ہوئی ہیں، جنہیں قریبی طبی مراکز منتقل کر دیا گیا ہے۔ دوسری جانب، اسلام آباد میں وزارتِ اطلاعات نے افغان طالبان کے ان دعوؤں کو یکسر مسترد کر دیا ہے جن میں پاکستان کو نورستان کے قریب ہونے والے پرتشدد واقعات سے جوڑنے کی کوشش کی گئی تھی۔ پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ اس طرح کے بے بنیاد اور مضحکہ خیز دعوے حقائق کے منافی ہیں اور پاکستان خطے میں امن و استحکام کا خواہاں ہے۔ اس تازہ سرحدی کشیدگی نے دونوں ممالک کے درمیان پہلے سے موجود سفارتی تناؤ کو مزید گہرا کر دیا ہے۔ بین الاقوامی برادری اور مبصرین اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں، کیونکہ سرحدی علاقوں میں اس قسم کے تصادم سے خطے کی مجموعی سلامتی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ دونوں جانب سے سکیورٹی فورسز کو مزید الرٹ کر دیا گیا ہے تاکہ آئندہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بروقت نمٹا جا سکے اور صورتحال کو مزید خراب ہونے سے روکا جا سکے۔