LIVE
Loading Breaking News...

روسی بحری جہاز نے پابندیوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے مالی کو فوجی گاڑیاں بھیج دیں

News Image
سیٹلائٹ تصاویر سے انکشاف ہوا ہے کہ ایک روسی بحری جہاز نے بین الاقوامی پابندیوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مالی کے لیے بکتر بند گاڑیاں اور ٹرک روانہ کیے۔ یہ جہاز انگلش چینل کے راستے افریقہ کی جانب روانہ ہوا۔
بین الاقوامی سطح پر عائد سخت پابندیوں اور تناؤ کے باوجود، روس نے افریقی ملک مالی کو عسکری امداد کی فراہمی جاری رکھی ہے۔ حال ہی میں موصول ہونے والی سیٹلائٹ تصاویر سے اس بات کا انکشاف ہوا ہے کہ ایک روسی بحری جہاز نے تمام تر بین الاقوامی پابندیوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے مالی کے لیے فوجی گاڑیاں اور ٹرک روانہ کیے ہیں۔ اس کارروائی نے ایک بار پھر عالمی طاقتوں کے درمیان کشیدگی کو مزید بڑھا دیا ہے۔ حاصل ہونے والی اطلاعات کے مطابق، یہ مشکوک بحری جہاز انگلش چینل سے گزرتے ہوئے افریقہ کی سمت روانہ ہوا۔ جہاز پر لدے ہوئے سامان میں خاص طور پر بکتر بند عملہ بردار گاڑیاں (APCs) اور دیگر لاجسٹک ٹرک شامل ہیں جو مالی کی سکیورٹی فورسز کے استعمال کے لیے ہیں۔ اس نوعیت کی ترسیلات اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ روس افریقی خطے میں اپنے اثر و رسوخ کو برقرار رکھنے اور مضبوط کرنے کے لیے ہر ممکن قدم اٹھا رہا ہے۔ یورپی ممالک اور مغربی طاقتیں پہلے ہی روس پر مختلف محاذوں پر سخت پابندیاں عائد کر چکی ہیں تاکہ اس کی معیشت اور عسکری رسد کو کمزور کیا جا سکے۔ تاہم، اس تازہ واقعے نے یہ ظاہر کر دیا ہے کہ ماسکو بین الاقوامی دباؤ کے باوجود اپنے تزویراتی اتحادیوں کے ساتھ تعلقات کو گہرا کرنے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے۔ مالی اور دیگر افریقی ممالک کے ساتھ روس کے دفاعی روابط میں حالیہ برسوں میں نمایاں تیزی دیکھی گئی ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس بحری جہاز کی نقل و حرکت پر مغربی انٹیلی جنس ادارے گہری نظر رکھے ہوئے تھے، لیکن سفارتی اور سمندری قوانین کی پیچیدگیوں کی وجہ سے اسے روکا نہیں جا سکا۔ توقع کی جا رہی ہے کہ اس واقعے کے بعد مغربی ممالک کی طرف سے روس پر مزید سفارتی دباؤ ڈالا جائے گا اور اس نوعیت کی ترسیلات کو روکنے کے لیے نئے لائحہ عمل پر غور کیا جائے گا۔