Business
امریکہ ایران مذاکرات کی خبریں، عالمی منڈی میں تیل سستا ہو گیا
امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ کے خاتمے اور کشیدگی کم کرنے کے راستے تلاش کرنے کی خبروں کے بعد بین الاقوامی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں تقریباً دو فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ اس پیش رفت سے آبنائے ہرمز کے دوبارہ کھلنے اور تجارتی راستوں کی بحالی کی امیدیں پیدا ہو گئی ہیں۔
عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی ہے جہاں بین الاقوامی برینٹ اور خام تیل کے دام لگ بھگ دو فیصد تک گر گئے ہیں۔ اس کمی کی بنیادی وجہ امریکہ اور ایران کے مابین جاری کشیدگی کو کم کرنے اور جنگ کے خاتمے کے لیے نئے سفارتی راستوں کی تلاش بتائی جا رہی ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات اور افہام و تفہیم کی ان کوششوں کے بعد مارکیٹ کے شرکاء میں پایا جانے والا خوف کسی حد تک کم ہوا ہے، جس کے اثرات براہ راست توانائی کی قیمتوں پر مرتب ہوئے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس سفارتی پیش رفت سے خطے میں امن کی نئی راہیں کھل سکتی ہیں اور طویل عرصے سے جاری معاشی عدم استحکام پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ دوسری جانب اس صورتحال کا ایک اہم پس منظر آبنائے ہرمز کی بندش اور اس کے تجارتی اثرات سے بھی جڑا ہوا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، اگر امریکہ اور ایران کے درمیان کوئی حتمی معاہدہ طے پا جاتا ہے تو اس سے آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر بحال کرنے میں مدد ملے گی، جو دنیا بھر میں تیل کی نقل و حمل کے لیے ایک انتہائی اہم بحری گزرگاہ ہے۔ اس آبنائے کے کھلنے سے سپلائی چین میں حائل رکاوٹیں ختم ہوں گی اور رسد میں بہتری آئے گی، جس سے قیمتوں میں مزید اعتدال آنے کی توقع کی جا رہی ہے۔ تاہم، دوسری طرف مشرق وسطیٰ کے دیگر خطوں میں تاحال سیکیورٹی کے حوالے سے خدشات برقرار ہیں۔ یمن کے حوثی باغیوں کی طرف سے سعودی عرب کی تنصیبات پر حملوں کے دعووں کے بعد مارکیٹ میں وقتی طور پر ہیجان بھی دیکھا گیا تھا، لیکن امریکہ اور ایران کے مابین امن مذاکرات کی خبریں اس تناؤ پر وقتی طور پر حاوی رہی ہیں۔ مجموعی طور پر سرمایہ کار اب موجودہ صورتحال کو محتاط انداز میں دیکھ رہے ہیں کیونکہ توانائی کے شعبے میں کسی بھی بڑی تبدیلی کا اثر براہ راست عالمی معیشت پر پڑتا ہے۔ آئندہ دنوں میں تیل پیدا کرنے والےممالک کے اقدامات اور امریکہ و ایران کے مذاکرات کا اگلا دور عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں کا مستقبل طے کرنے میں فیصلہ کن کردار ادا کرے گا۔ معاشی ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب ہوتی ہیں تو اس سے مہنگائی کے دباؤ کا شکار عالمی معیشت کو بڑی ریلیف ملے گی اور کاروباری سرگرمیاں بہتر ہوں گی۔