Technology
ہیکرز کی جانب سے اے آئی سبسکرپشنز کی چوری اور ایل ایل ایم جیکنگ کے حملے
سائبر سیکیورٹی کے ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ ہیکرز مصنوعی ذہانت کے اکاؤنٹس اور سرورز کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ اس نئی لہر کو ایل ایل ایم جیکنگ کا نام دیا گیا ہے جس کے ذریعے صارفین کی سبسکرپشنز چوری کی جا رہی ہیں۔
نیکسورا نیوز اردو کی رپورٹ کے مطابق ڈیجیٹل دنیا میں سائبر سیکیورٹی کے حوالے سے ایک نیا اور سنگین خطرہ سامنے آ گیا ہے جہاں ہیکرز نے مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی (AI) کے اکاؤنٹس اور سبسکرپشنز کو چرانا شروع کر دیا ہے۔ یہ مجرمانہ سرگرمی جسے ماہرین نے ایل ایل ایم جیکنگ کا نام دیا ہے، دنیا بھر کی بڑی اے آئی کمپنیوں کے لیے درد سر بنتی جا رہی ہے۔ رپورٹس کے مطابق اوپن اے آئی، گوگل اور اینتھروپک جیسے بڑے پلیٹ فارمز کے صارفین کو اس حملے کا سامنا ہے۔
فنانشل ٹائمز اور دیگر ذرائع کی رپورٹس سے انکشاف ہوا ہے کہ ڈارک ویب پر اے آئی اکاؤنٹس کی رسائی انتہائی کم نرخوں پر فروخت کی جا رہی ہے، جہاں قیمتوں میں सत्انوے فیصد تک کی بڑی چھوٹ دی جا رہی ہے۔ ہیکرز ان چوری شدہ اکاؤنٹس اور ہائی اینڈ سرورز کو اپنے مجرمانہ مقاصد کے لیے استعمال کرتے ہیں اور بغیر کسی خرچ کے مہنگے ترین اے آئی ماڈلز کو چلاتے ہیں۔ اس سے نہ صرف اصل صارفین کی مالی اور ڈیٹا سیکیورٹی کو خطرہ لاحق ہوتا ہے بلکہ کمپنیوں کے سسٹمز پر بھی بے پناہ دباؤ پڑتا ہے۔
گوگل اور دیگر ٹیکنالوجی کمپنیوں کے سیکیورٹی اداروں نے اس بڑھتے ہوئے رجحان پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے صارفین اور کاروباری اداروں کو خبردار کیا ہے کہ وہ اپنے اکاؤنٹس کی سیکیورٹی کو مزید سخت کریں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ملٹی فیکٹر اتھینٹیکیشن کا استعمال اور مضبوط پاس ورڈز اس قسم کے حملوں سے بچاؤ کے لیے انتہائی ضروری ہیں۔ دوسری جانب کمپنیاں بھی اپنے سسٹمز میں موجود خامیوں کو دور کرنے اور غیر معمولی سرگرمیوں کو پکڑنے کے لیے جدید ترین الگورتھم متعارف کرا رہی ہیں تاکہ اس نئے سائبر خطرے سے نمٹا جا سکے۔