LIVE
Loading Breaking News...

اسرائیلی اپوزیشن کا نیتنیاہو کی حکومت کیخلاف اتحاد

News Image
اسرائیل میں سیاسی ہلچل تیز ہو گئی ہے جہاں اپوزیشن رہنماؤں نے وزیر اعظم بنجمن نیتنیاہو کو اقتدار سے ہٹانے کے لیے ہاتھ ملا لیا ہے۔ یہ اتحاد ملک کے موجودہ سیاسی منظر نامے میں ایک اہم موڑ کی حیثیت رکھتا ہے۔
تل ابیب سے موصول ہونے والی رپورٹس کے مطابق اسرائیل کی سیاست میں اس وقت ایک نیا طوفان برپا ہو چکا ہے جب ملک کے اہم اپوزیشن رہنماؤں نے وزیر اعظم بنجمن نیتنیاہو کی حکومت کو اقتدار سے ہٹانے کے لیے باضابطہ طور پر اتحاد کر لیا ہے۔ یروشلم ڈیلی کی حالیہ رپورٹ کے مطابق اس سیاسی اتحاد کا بنیادی مقصد موجودہ حکومتی پالیسیوں کا خاتمہ اور ملک میں قبل از وقت انتخابات کا انعقاد یقینی بنانا ہے۔ اپوزیشن جماعتوں کا ماننا ہے کہ موجودہ انتظامیہ ملکی مسائل کو حل کرنے میں ناکام ہو چکی ہے اور ملک کو ایک مستحکم قیادت کی اشد ضرورت ہے۔ اس نئے سیاسی اتحاد میں مختلف نظریات رکھنے والے رہنما ایک ہی پلیٹ فارم پر جمع ہوئے ہیں تاکہ نیتنیاہو کی طویل حکومت کو چیلنج کیا جا سکے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگرچہ ان جماعتوں کے درمیان ماضی میں شدید اختلافات رہے ہیں، لیکن موجودہ حالات نے انہیں ایک مشترکہ ایجنڈے پر کام کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔ اتحاد کے رہنماؤں نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ ملک میں جمہوری اقدار کی بحالی اور بہتر مستقبل کے لیے ان کا ساتھ دیں۔ دوسری جانب، وزیر اعظم بنجمن نیتنیاہو اور ان کے حامیوں کی طرف سے اس اپوزیشن گٹھ جوڑ پر شدید تنقید کی گئی ہے۔ حکومتیحلقوں کا دعویٰ ہے کہ یہ اتحاد محض ذاتی سیاسی مفادات کے حصول کے لیے بنایا گیا ہے اور اس سے ملکی سلامتی کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ حکومتی ترجمان نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ ان کی جماعت تمام اندرونی و بیرونی چیلنجز کا مقابلہ کرتے ہوئے اپنی آئینی مدت پوری کرے گی۔ اس پیش رفت کے بعد اسرائیل کے سیاسی اور پارلیمانی ایوانوں میں گرمی بڑھ گئی ہے اور آنے والے دنوں میں پارلیمنٹ کے اندر سخت معرکہ آرائی متوقع ہے۔ ماہرینِ سیاسیات کا خیال ہے کہ اس اپوزیشن اتحاد کے بننے سے نیتنیاہو کی حکومت کے لیے مشکلات میں نمایاں اضافہ ہو گیا ہے، اور یہ صورتحال ملک کو ایک نئے سیاسی بحران کی طرف دھکیل سکتی ہے۔ عوام اور مبصرین کی نظریں اب پارلیمنٹ میں ہونے والی آئندہ کارروائی اور ووٹنگ پر مرکوز ہیں۔