Health
طویل العمری کی دوڑ اور بائیو ٹیکنالوجی کے خطرات
بڑھتی ہوئی عمر کو روکنے والی بائیو ٹیکنالوجی میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کی جا رہی ہے لیکن سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اس عمل کے خطرات کو ابھی مکمل طور پر سمجھا نہیں جا سکا۔ طویل العمری کے اس رحجان سے طبی اور اخلاقی دونوں قسم کے نئے چیلنجز جنم لے رہے ہیں۔
دنیا بھر میں طویل العمری کے حصول اور بڑھتی ہوئی عمر کے اثرات کو زائل کرنے کے لیے بائیو ٹیکنالوجی کے شعبے میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کی جا رہی ہے۔ سرمایہ کاروں اور بڑی کمپنیوں کی جانب سے ایسے طریقوں پر زور دیا جا رہا ہے جو انسان کی عمر کو نمایاں طور پر بڑھا سکیں یا جوانی کو طویل کر سکیں۔ تاہم، ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ طویل العمری کا جنون تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے جبکہ اس کے پیچھے موجود سائنسی تحقیق اور فہم ابھی اس رفتار کا مقابلہ نہیں کر پا رہی ہے۔ انسانی جسم اور خلیات کی پیچیدگی کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ آیا ہم اتنی جلدی اس کے نتائج کو سنبھالنے کے لیے تیار ہیں یا نہیں۔
بیماریوں سے لڑنے اور عمر بڑھانے کے دعوے کرنے والی یہ بائیو ٹیک کمپنیاں مختلف طریقوں سے انسانی حیاتیاتی عمر کو گھٹانے کی کوشش کر رہی ہیں۔ اس شعبے میں جینیاتی تبدیلیوں سے لے کر ادویات کے تجربات تک سب کچھ شامل ہے۔ اس بات سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ اس ٹیکنالوجی کے ذریعے مستقبل میں انسانی صحت کے معیار کو بہتر بنایا جا سکتا ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ خطرات بھی جڑے ہیں جن سے عام لوگ تو کیا خود سائنسدان بھی پوری طرح آگاہ نہیں ہیں۔ خلیاتی سطح پر کی جانے والی چھیڑ چھاڑ کے طویل المدتی نقصانات کیا ہوں گے، اس کا اندازہ لگانے کے لیے ابھی مزید برسوں کی تحقیق درکار ہے۔
طبی ماہرین اور محققین کا ماننا ہے کہ جب تک عمر بڑھانے کے عمل کو مکمل طور پر سمجھ نہیں لیا جاتا، تب تک اس قسم کے تجارتی اور تجرباتی اقدامات سے خطرناک پیچیدگیاں پیدا ہو سکتی ہیں۔ جلد بازی میں کیے جانے والے طبی تجربات انسانوں کے لیے فائدہ مند ہونے کے بجائے جسمانی نظام کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی سطح پر طبی ماہرین اس شعبے میں زیادہ ضابطہ کار اور احتیاط برتنے پر زور دے رہے ہیں تاکہ انسانی زندگی کے ساتھ کسی بھی قسم کا خطرناک قیاس آرائی والا کھیل نہ کھیلا جا سکے۔