World
ماسکو ریسٹورانٹ بم دھماکہ، خاتون بمبار سمیت تین افراد جاں بحق
روس کے دارالحکومت ماسکو کے مرکزی علاقے میں ایک ریسٹورانٹ کے باہر ہونے والے بم دھماکے کے نتیجے میں ایک خاتون بمبار سمیت کم از کم تین افراد ہلاک ہو گئے۔ اس دلخراش واقعے میں بیس سے زائد افراد زخمی بھی ہوئے ہیں جنہیں قریبی اسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا ہے۔
روس کے دارالحکومت ماسکو کے ایک مصروف مرکزی علاقے میں واقع ریسٹورانٹ کے باہر ہونے والے ایک شدید بم دھماکے کے نتیجے میں تین افراد ہلاک اور بیس سے زائد زخمی ہو گئے ہیں۔ سکیورٹی اداروں اور مقامی حکام کی جانب سے دی جانے والی ابتدائی اطلاعات کے مطابق مرنے والوں میں ایک خاتون حملہ آور بھی شامل ہے جس کے بارے میں شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ وہ خودکش بمبار تھی۔ یہ واقعہ ایک ایسے وقت میں پیش آیا جب علاقے میں معمول کی گہما گہمی جاری تھی اور شہری بڑی تعداد میں تفریحی مقامات پر موجود تھے۔ دھماکے کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ قریبی عمارتوں کے شیشے ٹوٹ گئے اور علاقے میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی قانون نافذ کرنے والے اداروں، پولیس اور امدادی ٹیموں نے فوری طور پر جائے وقوعہ کا رخ کیا۔ سکیورٹی فورسز نے پورے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے جبکہ فرانزک ٹیمیں ش اکھیڑے جمع کرنے میں مصروف ہیں۔ ہنگامی بنیادوں پر امدادی کارروائیاں چلاتے ہوئے تمام زخمیوں کو فوری طور پر قریبی اسپتالوں میں منتقل کیا گیا جہاں ان میں سے کئی افراد کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔ طبی عملے کا کہنا ہے کہ ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ بھی موجود ہے کیونکہ بعض زخمیوں کو گہرے زخم آئے ہیں۔ روسی حکام نے واقعے کی تحقیقات کے لیے اعلیٰ سطحی انکوائری کمیٹی تشکیل دے دی ہے اور دہشت گردی کے اس مکروہ فعل کے محرکات جاننے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ تاحال کسی بھی شدت پسند گروپ نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے، تاہم سکیورٹی الرٹ جاری کر کے دارالحکومت میں حفاظتی انتظامات مزید سخت کر دیے گئے ہیں۔