World
یمن کا صحت کا نظام تباہی کے دہانے پر، وزیر صحت کی وارننگ
یمن کے وزیر صحت نے خبردار کیا ہے کہ طویل جنگ کی وجہ سے محدود ہوتے ہوئے وسائل کے باعث ملک کا صحت کا نظام بعض حصوں میں مکمل طور پر بیٹھ سکتا ہے۔ بین الاقوامی برادری سے فوری امداد اور توجہ دینے کی اپیل کی گئی ہے تاکہ انسانی المیے کو روکا جا سکے۔
یمن کے صحت کا نظام ملک میں طویل عرصے سے جاری جنگ اور وسائل کی شدید قلت کے باعث انتہائی دباؤ کا شکار ہے۔ یمن کے وزیر صحت نے ایک انٹرویو میں خبردار کیا ہے کہ اگر صورتحال ایسی ہی رہی تو ملک کے کئی علاقوں میں صحت کا بنیادی ڈھانچہ مکمل طور پر تباہ ہو سکتا ہے اور یہ نظام مزید عوام کو طبی سہولیات فراہم کرنے کے قابل نہیں رہے گا۔ انہوں نے بتایا کہ ہسپتالوں میں ادویات، طبی آلات اور بنیادی سہولتوں کی عدم دستیابی نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے، جس سے عام شہریوں کی زندگیاں خطرے میں پڑ گئی ہیں۔
جنگ اور ناکہ بندی کی وجہ سے بین الاقوامی امداد کی فراہمی میں بھی شدید رکاوٹیں حائل رہی ہیں، جس کا براہ راست اثر بچوں، خواتین اور بزرگوں کی صحت پر پڑ رہا ہے۔ طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ بہت سے علاقوں میں ڈاکٹر اور طبی عملہ تنخواہوں اور ضروری وسائل کے بغیر کام کرنے پر مجبور ہے، جو اس نظام کے انہدام کی ایک اور بڑی وجہ بنتا جا رہا ہے۔ اسپتالوں تک رسائی نہ ہونے کی وجہ سے بیمار اور زخمی افراد وقت پر علاج نہ ملنے کے باعث اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھ رہے ہیں، اور وبائی امراض پھیلنے کا خطرہ بھی دن بدن بڑھتا جا رہا ہے۔
اس تشویشناک صورتحال کے پیش نظر، یمنی وزارت صحت نے عالمی برادری اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے پرزور اپیل کی ہے کہ وہ اس انسانی بحران کا فوری نوٹس لیں۔ وزیر صحت نے مطالبہ کیا ہے کہ طبی امداد کی بلا تعطل فراہمی کو یقینی بنایا جائے اور تباہ شدہ طبی مراکز کی بحالی کے لیے ہنگامی بنیادوں پر فنڈز فراہم کیے جائیں۔ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو یمن کے کئی خطوں میں صحت کا شعبہ ناقابل تلافی نقصان سے دوچار ہو جائے گا، جس سے پہلے ہی مشکلات کا شکار عوام کی مصیبتوں میں مزید خوفناک حد تک اضافہ ہو جائے گا۔