World
اسرائیلی وزیر سموٹریچ کا مغربی کنارے میں جنگ کا مطالبہ اور خطرات
اسرائیلی وزیر کے مغربی کنارے میں جنگ سے متعلق حالیہ بیانات پر انسانی حقوق کے ماہرین نے گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس طرح کے خطرناک بیانات کو محض انتخابی بیانات کہہ کر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
مقبوضہ مغربی کنارے میں صورتحال اس وقت مزید کشیدہ ہو گئی ہے جب اسرائیلی وزیر بیزلیل سموٹریچ کی جانب سے وہاں باقاعدہ جنگ کا مطالبہ سامنے آیا ہے۔ اس اشتعال انگیز بیان کے بعد خطے میں پائیدار امن اور سلامتی کے حوالے سے خدشات میں شدید اضافہ ہو گیا ہے۔ بین الاقوامی مبصرین اور مقامی سطح پر انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے اداروں نے اس صورتحال پر انتہائی تشویش کا اظہار کیا ہے۔
ابتدائی طور پر کچھ حلقوں کی جانب سے اسے محض سیاسی بیان بازی یا انتخابی حربہ قرار دیا جا رہا تھا، تاہم انسانی حقوق کے ماہرین اور مشرق وسطیٰ کے امور پر گہری نظر رکھنے والے تجزیہ کاروں نے خبردار کیا ہے کہ ان الفاظ کو ہلکے میں نہیں لینا چاہیے۔ ان کا مؤقف ہے کہ اس طرح کے بیانات زمینی حقائق کو مزید خراب کرنے اور نئی پرتشدد کارروائیوں کو ہوا دینے کا سبب بن سکتے ہیں، جس سے خطے کے عام شہریوں کی زندگیاں براہ راست خطرے میں پڑ جائیں گی۔
ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس قسم کی بیان بازی سے کشیدگی میں کمی کے بجائے مزید اضافہ ہوتا ہے اور امن مذاکرات کی تمام تر کوششیں پٹڑی سے اتر سکتی ہیں۔ بین الاقوامی برادری اور سفارتی حلقوں پر زور دیا جا رہا ہے کہ وہ اس معاملے کا فوری نوٹس لیں اور خطے میں مزید خون خرابے کو روکنے کے لیے اپنا اثر و رسوخ استعمال کریں تاکہ صورتحال کو مزید بگڑنے سے بچایا جا سکے۔