World
امریکہ میں جنوبی افریقہ کی مبینہ سفید فام نسل کشی پر نئے دعوے سامنے آ گئے
امریکہ میں حال ہی میں نصب کی جانے والی یادگاری صلیبوں نے جنوبی افریقہ کے کسانوں کے خلاف مبینہ سفید فام نسل کشی کے جھوٹے اور بے بنیاد دعوؤں کو ایک بار پھر ہوا دے دی ہے۔ ان غلط دعوؤں کو بین الاقوامی سطح پر حقائق کی روشنی میں بارہا مسترد کیا جا چکا ہے مگر اس طرح کے اقدامات سے گمراہ کن پروپیگنڈے کو فروغ ملتا ہے۔
امریکہ میں हाल ਹੀ میں نصب کی جانے والی یادگاری صلیبوں کے ذریعے جنوبی افریقہ کے کسانوں کے خلاف مبینہ 'سفید فام نسل کشی' (white genocide) کے غلط اور بے بنیاد دعوؤں کو ایک بار پھر زندہ کر دیا گیا ہے۔ اس واقعے نے بین الاقوامی سطح پر ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے جہاں ماہرینِ تعلیم اور حقائق کی جانچ پڑتال کرنے والے اداروں نے ان دعوؤں کو سراسر من گھڑت اور حقائق کے منافی قرار دیا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق، اس قسم کے یادگاری اقدامات سے معاشرے میں غلط فہمیاں پھیلتی ہیں اور ایک مخصوص سیاسی ایجنڈے کے تحت حقائق کو مسخ کیا جاتا ہے۔ جنوبی افریقہ میں زرعی جرائم اور زمین کی ملکیت کے مسائل کو بعض عناصر سیاسی مقاصد کے لیے سفید فام کسانوں کے خلاف منظم نسل کشی کا رنگ دینے کی کوشش کرتے ہیں، جبکہ حقیقت میں یہ ملک بھر میں پھیلے ہوئے عام جرائم کا حصہ ہیں جو تمام طبقات کو یکساں طور پر متاثر کرتے ہیں۔
عالمی سطح پر تحقیق کرنے والے اداروں اور فیکٹ چیکرز نے اس بات کی بارہا تصدیق کی ہے کہ جنوبی افریقہ میں سفید فام آبادی کے خلاف کسی بھی قسم کی نسل کشی یا منظم قتلِ عام کا کوئی ثبوت موجود نہیں۔ اس کے باوجود، بعض امریکی اور بین الاقوامی حلقوں کی طرف سے اس قسم کے پروپیگنڈے کو ہوا دینا اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ غلط معلومات کتनी آسانی سے سرحدیں پار کر کے اثر انداز ہو سکتی ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ میڈیا اور سول سوسائٹی کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس طرح کے بے بنیاد دعوؤں کے خلاف درست اعداد و شمار اور حقائق سامنے لائیں تاکہ عوامی سطح پر کسی قسم کا غلط تاثر قائم نہ ہو۔ اس طرح کے جذباتیت پر مبنی اقدامات نہ صرف حقائق کو دھندلاتے ہیں بلکہ بین الاقوامی تعلقات اور سماجی ہم آہنگی کے لیے بھی نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں۔