Business
پاکستان اور یو ایس ایکسپم بینک: بوئینگ طیاروں کی فنانسنگ پر بات چیت
وفاقی وزیر خزانہ کے دورہ امریکہ کے دوران یو ایس ایکسپم بینک کے ساتھ بوئینگ طیاروں کی خریداری کے لیے مالی معاونت پر بات چیت کی گئی۔ حکومتی مشیر نے واضح کیا ہے کہ قومی ائیرلائن کے نئے طیاروں کے لیے کسی قسم کی سرکاری مالی معاونت یا خودمختار ضمانت والے قرضے حاصل نہیں کیے جائیں گے۔
وفاقی وزیر خزانہ کے حالیہ دورہ امریکہ کے دوران امریکی مالیاتی اداروں کے ساتھ ہونے والی بات چیت میں بوئینگ کے نئے طیاروں کے لیے مالی معاونت کا موضوع زیر بحث آیا ہے۔ ذرائع کے مطابق وزیر خزانہ نے امریکہ میں اہم ملاقاتیں کیں جن میں دوطرفہ تجارتی تعلقات اور اقتصادی تعاون کے فروغ پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس حوالے سے مزید تفصیلات سامنے آنے کے بعد کاروباریحلقوں میں چہ مگوئیاں شروع ہو گئی تھیں کہ آیا یہ معاہدے قومی ائیرلائن یا کسی اور تجارتی منصوبے کے لیے ہیں۔ اس پس منظر میں حکومت کی طرف سے صورتحال کو واضح کرتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ اس پوری پیش رفت کا مقصد ملکی معیشت کو مستحکم کرنا اور بین الاقوامی سطح پر تجارتی روابط کو وسعت دینا ہے۔ دوسری جانب حکومت کی معاشی پالیسیوں پر بات کرتے ہوئے متعلقہ حکومتی مشیر کا کہنا تھا کہ ائیرلائن کے نئے طیاروں کی خریداری یا اس سے جڑے امور کے لیے کسی بھی قسم کی سرکاری مالی معاونت یا خودمختار ضمانت کے حامل قرضے استعمال نہیں کیے جائیں گے۔ اس پالیسی کا مقصد ریاست کے تجارتی اور معاشی سرگرمیوں میں براہ راست کردار کو کم کرنا ہے تاکہ نجی شعبے کو آگے بڑھنے کے زیادہ مواقع مل سکیں۔ حکومت پہلے ہی اس بات کا اعادہ کر چکی ہے کہ معیشت کو پٹری پر لانے کے لیے نجکاری کے عمل کو تیزی سے آگے بڑھایا جائے گا تاکہ قومی خزانے پر پڑنے والے بوجھ کو کم کیا جا سکے۔ معاشی ماہرین کا ماننا ہے کہ اگرچہ بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے ساتھ اس قسم کے مذاکرات ملکی ایوی ایشن اور ٹرانسپورٹ کے شعبے کے لیے طویل مدتی فوائد کے حامل ہو سکتے ہیں، تاہم شفافیت کو برقرار رکھنا انتہائی ضروری ہے۔ حکومت کی جانب سے یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ معاشی اصلاحات کا یہ سفر جاری رہے گا اور تمام فیصلے ملکی مفاد کو مدنظر رکھ کر کیے جا رہے ہیں تاکہ ملک کو درپیش مالیاتی چیلنجز کا موثر انداز میں مقابلہ کیا جا سکے اور پائیدار ترقی کی راہ ہموار ہو۔