Sports
فیفا صدارت: گیانی انفنٹینو کے خلاف کوئی مدمقابل کیوں نہیں؟
فیفا کے صدر گیانی انفنٹینو کو فی الحال صدارتی منصب پر کوئی بڑا چیلنج درپیش نہیں ہے۔ عالمی سطح پر شدید تنقید کے بعد انہوں نے ورلڈ کپ میں حصہ فروخت کرنے کا متنازع منصوبہ منسوخ کر دیا تھا۔
عالمی فٹ بال کی نگران تنظیم فیفا کے صدر گیانی انفنٹینو ایک بار پھر عالمی سطح پر توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں، تاہم اس بار سوال یہ اٹھایا جا رہا ہے کہ ان کے خلاف صدارتی منصب کے لیے کوئی مضبوط امیدوار سامنے کیوں نہیں آ رہا ہے۔ مبصرین کے مطابق، تنظیم کے اندر انفنٹینو کی گرفت انتہائی مضبوط ہو چکی ہے اور انہوں نے اپنے دور اقتدار میں اپنی پوزیشن کو اس حد تک مستحکم کر لیا ہے کہ فی الحال کسی کے لیے بھی ان کے مقابلے میں آنا آسان نہیں ہے۔ حال ہی میں گیانی انفنٹینو کو اس وقت پسپا ہونا پڑا جب انہیں ورلڈ کپ کے حوالے سے ایک متنازع مالیاتی منصوبے پر عالمی سطح پر شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ ناقدین اور دنیا بھر کے فٹ بال شائقین کی طرف سے شدید احتجاج کے بعد انہیں ورلڈ کپ کے حصے فروخت کرنے کے اس متنازع خیال کو بالآخر ترک کرنا پڑا۔ اس تنازع کے باوجود، تنظیم کے اندرونی سیاسی ڈھانچے میں ان کی مخالفت کرنے کی سکت رکھنے والی آوازیں فی الحال دبی ہوئی ہیں۔ فٹ بال کی دنیا میں یہ بحث مسلسل جاری ہے کہ کیا فیفا کی قیادت میں تبدیلی کا کوئی امکان موجود ہے یا نہیں۔ دنیا بھر کے فیفا کے رکن ممالک اور ایسوسی ایشنز نے مختلف مواقع پر انفنٹینو کی پالیسیوں کی حمایت یا مخالفت کی ہے، لیکن عملی طور پر کسی بھی بڑے فٹ بال نیشن نے تاحال ان کے خلاف کھل کر صدارتی میدان میں اترنے کا اعلان نہیں کیا۔ یہی وجہ ہے کہ ماہرینِ ارضیاتی کھیل اور کھیلوں کے صحافی اس صورتحال کو فیفا کی اندرونی سیاست کا ایک اہم موڑ قرار دے رہے ہیں۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ آیا عالمی فٹ بال فیڈریشن کے اندر سے کوئی نمایاں چہرہ ان کے مدِ مقابل آتا ہے یا گیانی انفنٹینو بغیر کسی بڑی مزاحمت کے اپنے عہدے پر براجمان رہتے ہیں۔