LIVE
Loading Breaking News...

ایران نے آبنائے ہرمز میں امریکی سمندری ڈرون پکڑ لیا

News Image
ایران کے پاسداران انقلاب نے آبنائے ہرمز کے قریب ایک امریکی بغیر پائلٹ کے زیرِ آب بحری جہاز کو قبضے میں لینے کا دعویٰ کیا ہے۔ دوسری جانب امریکہ نے اس دعوے کی سختی سے تردید کی ہے اور اس واقعے کو خطے میں نئی کشیدگی قرار دیا ہے۔
ایران کے پاسداران انقلاب (آئی آر جی سی) نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے آبنائے ہرمز کے اسٹریٹجک پانیوں میں ایک امریکی بغیر پائلٹ کا زیرِ آب سمندری ڈرون (ریمس 600) قبضے میں لے لیا ہے۔ ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق یہ کارروائی اس وقت عمل میں آئی جب یہ آلہ بین الاقوامی پانیوں میں غیر قانونی طور پر سرگرم تھا۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ اس قسم کے اقدامات سے سمندری حدود کی خلاف ورزی ہوتی ہے اور علاقائی سلامتی کو خطرات لاحق ہوتے ہیں، اسی لیے ان کے نیول یونٹس نے بر وقت کارروائی کرتے ہوئے اسے تحویل میں لے لیا۔ دوسری جانب امریکی فوج نے ایران کے اس دعوے کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔ امریکی حکام کا مؤقف ہے کہ ایران کا یہ دعویٰ بے بنیاد ہے اور کسی بھی جدید امریکی فوجی ڈرون کو اس طرح قبضے میں نہیں لیا گیا۔ واشنگٹن کی جانب سے جاری کردہ بیانات میں کہا گیا ہے کہ اس نوعیت کے الزامات خطے میں پہلے سے موجود تناؤ کو مزید بڑھانے کا باعث بن سکتے ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ آبنائے ہرمز جو کہ دنیا کے اہم ترین تیل کی ترسیل کے راستوں میں شامل ہے، میں اس طرح کے واقعات دونوں ممالک کے درمیان عسکری کشیدگی کو ایک بار پھر ہوا دے سکتے ہیں۔ بین الاقوامی سطح پر اس واقعے کے بعد صورتحال کا بغور جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ زمینی حقائق کیا ہیں۔ دونوں فریقین کی جانب سے متضاد بیانات کے باعث اس خطے میں بحری سلامتی کے امور پر ایک بار پھر سوالیہ نشان اٹھ کھڑے ہوئے ہیں اور عالمی طاقتیں فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کر رہی ہیں۔