LIVE
Loading Breaking News...

عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں گیارہ روزہ کم ترین سطح پر

News Image
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں دو فیصد تک بڑی کمی ریکارڈ کی گئی ہے جو گیارہ دنوں کی کم ترین سطح ہے۔ اس کمی کی بنیادی وجوہات میں امریکہ اور ایران کے مابین ممکنہ معاہدے کی امیدیں اور سعودی عرب کی جانب سے رسد میں بہتری شامل ہیں۔
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں گراوٹ دیکھی گئی ہے اور یہ گزشتہ گیارہ دنوں کی کم ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں۔ کاروباری سیشن کے دوران تیل کے نرخوں میں دو فیصد تک کی کمی ریکارڈ کی گئی، جس نے عالمی توانائی منڈی کی توجہ اپنی جانب مبذول کروا لی ہے۔ ماہرین کے مطابق اس قیمت میں کمی کے پیچھے کئی اہم جغرافیائی اور سیاسی عوامل کارفرما ہیں جن میں سرفہرست امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات ہیں۔ ان مذاکرات کے نتیجے میں خطے میں کشیدگی کم ہونے اور تیل کی سپلائی میں رکاوٹیں دور ہونے کی توقعات بڑھ گئی ہیں۔ دوسری جانب، سعودی عرب کی طرف سے تیل کی ترسیلات اور برآمدات میں استحکام نے بھی مارکیٹ کے دباؤ کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے اور اس راستے سے تجارتی نقل و حرکت کی بحالی کے حوالے سے مثبت توقعات نے سرمایہ کاروں کو ریلیف فراہم کیا ہے۔ تجارتی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ یمن کی جانب سے سعودی تنصیبات پر حملوں کے دعوے بھی سامنے آئے تھے اور کچھ رپورٹس میں اس کے عارضی اثرات کا ذکر کیا گیا تھا، تاہم امریکہ اور ایران کے مابین ممکنہ جنگ بندی یا معاہدے کی امیدوں کا پلڑا ان تمام سکیورٹی خدشات پر بھاری ثابت ہوا۔ اس صورتحال نے عالمی سطح پر توانائی کی طلب اور رسد کے توازن کو تبدیل کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں تیل خریدنے والے ممالک کو وقتی طور پر بڑی राहत ملی ہے۔ معاشی تجزیہ کار آنے والے دنوں میں عالمی سیاسی منظر نامے پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں کیونکہ تیل کی قیمتوں کا اتار چڑھاؤ براہ راست عالمی افراط زر اور معاشی ترقی کی رفتار کو متاثر کرتا ہے۔ اگر موجودہ سفارتی کوششیں کامیاب رہتی ہیں اور سپلائی کے راستے مکمل طور پر محفوظ ہوجاتے ہیں، تو آنے والے ہفتوں میں تیل کی قیمتوں میں مزید استحکام دیکھنے کو مل سکتا ہے۔