LIVE
Loading Breaking News...

جمہوریہ آئرلینڈ اور اسرائیل کا یوفا نیشنز لیگ میں مصافحہ نہ کرنے کا فیصلہ

News Image
ہنگری میں کھیلے جانے والے متنازع یوفا نیشنز لیگ کے میچ سے قبل جمہوریہ آئرلینڈ اور اسرائیل کے کھلاڑیوں نے ایک دوسرے سے ہاتھ ملانے سے گریز کیا۔ یہ فیصلہ دونوں ٹیموں کے درمیان جاری تناؤ اور سکیورٹی خدشہ کے پیش نظر سامنے آیا۔
یوفا نیشنز لیگ کے تحت ہنگری میں کھیلے جانے والے ایک انتہائی متنازع میچ میں جمہوریہ آئرلینڈ اور اسرائیل کی فٹبال ٹیموں کے کھلاڑیوں نے روایتی مصافحہ کرنے سے گریز کیا۔ اتوار کے روز ہونے والے اس مقابلے سے قبل دونوں ٹیموں کے کھلاڑیوں کے درمیان ہاتھ نہ ملانے کا یہ اقدام عالمی کھیلوں کے حلقوں میں خصوصی توجہ کا مرکز بن گیا ہے، جس کی بازگشت مختلف میڈیا پلیٹ فارمز پر بھی سنائی دے رہی ہے۔ اس میچ کو پہلے ہی سے دونوں ممالک کے درمیان سیاسی اور سفارتی صورتحال کی وجہ سے غیر معمولی اہمیت اور حساسیت حاصل تھی۔ منتظمین اور مبصرین کی جانب سے توقع کی جا رہی تھی کہ میدان کے اندر روایتی اسپورٹس مین شپ کا مظاہرہ کیا جائے گا، تاہم کھلاڑیوں کا یہ فیصلہ اس بات کا غماز تھا کہ حالات کس قدر کشیدہ ہیں۔ میچ کے دوران دونوں جانب سے سخت مسابقتی رویہ دیکھنے میں آیا اور کھلاڑیوں نے کھیل پر پوری توجہ مرکوز رکھی۔ کھیلوں کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حالیہ بین الاقوامی تنازعات کا اثر اب کھیلوں کے میدانوں پر بھی براہ راست پڑ رہا ہے، جہاں ٹیمیں اور کھلاڑی سیاسی ماحول کے دباؤ کے تحت فیصلے کرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ یوفا کی انتظامیہ نے اس صورتحال پر تاحال کوئی حتمی بیان جاری نہیں کیا ہے، لیکن کھیلوں کے شائقین کے درمیان یہ موضوع انتہائی گرم بحث بنا ہوا ہے کہ آیا سیاست اور کھیلوں کو الگ رکھنا اب ممکن رہا ہے یا نہیں۔ آئرش اور اسرائیلی ٹیموں کے درمیان یہ مقابلہ اپنی نوعیت کا ایک الگ اور منفرد واقعہ تھا جس نے کھیل کے دوران اخلاقی اور سفارتی اصولوں پر نئی بحث چھوٹی ہے۔ آنے والے دنوں میں اس فیصلے کے کھیل کی انتظامیہ اور بین الاقوامی مقابلوں پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں، یہ دیکھنا باقی ہے۔ تحال، اس میچ نے ایک بار پھر ثابت کر دیا ہے کہ عالمی سیاست کے اثرات سے کھیلوں کی دنیا بھی محفوظ نہیں رہی۔