LIVE
Loading Breaking News...

آزاد کشمیر انتخابات دوسرا مرحلہ: بلاول بھٹو کی شفافیت کی امید اور پی پی پی کے الزامات

News Image
آزاد کشمیر میں انتخابات کے دوسرے مرحلے کے دوران مظفرآباد ڈویژن میں پولنگ کا عمل جاری ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی نے انتخابی بے ضابطگیوں اور پولنگ میں تاخیر پر تحفظات کا اظہار کیا ہے جبکہ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے شفاف عمل کی توقع ظاہر کی ہے۔
آزاد جموں و کشمیر میں مقامی حکومتوں اور اسمبلی کے ضمنی و بلدیاتی انتخابات کے دوسرے مرحلے کے تحت مظفرآباد ڈویژن میں پولنگ کا عمل سخت سکیورٹی اور انتظامات کے ساتھ شروع ہو چکا ہے۔ اس موقع پر جہاں انتظامیہ کی جانب سے امن و امان برقرار رکھنے اور ٹریفک کی روانی کو یقینی بنانے کے لیے جامع حکمت عملی اپنائی گئی ہے، وہیں سیاسی محاذ پر کشیدگی بھی دیکھنے میں آ رہی ہے۔ حکمگانہ اتحادی جماعتیں مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلز پارٹی اس انتخابی عمل کے دوران ایک دوسرے پر سبقت لے جانے اور مختلف امور پر تنقید کرتی نظر آئیں، جس سے سیاسی گہما گہمی میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اس موقع پر امید ظاہر کی ہے کہ انتخابی عمل کو مکمل طور پر شفاف بنایا جائے گا تاکہ عوام کے حقیقی مینڈیٹ کا احترام ہو سکے۔ دوسری جانب، پیپلز پارٹی نے انتخابی ضابطہ اخلاق کی مبینہ خلاف ورزیوں اور بعض مقامات پر انتظامی کوتاہیوں کے خلاف آواز اٹھائی ہے۔ پارٹی کی جانب سے حلقہ ایل اے اٹھائیس کے اکہتر پولنگ سٹیشنز پر ووٹنگ کے عمل میں جان بوجھ کر تاخیر کرنے کی باقاعدہ شکایات درج کروائی گئی ہیں، جس پر انتخابی حکام سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ انتخابی عمل کے دوران ووٹرز میں بھی خاصا جوش و خروش دیکھا جا رہا ہے تاہم سیاسی جماعتوں کے مابین الزامات اور جوابی الزامات کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ مبصرین کے مطابق وفاقی حکومت میں شامل اتحادی جماعتوں کا اس طرح آمنے سامنے آنا اس بات کا غماز ہے کہ آزاد کشمیر کی سیاست میں ہر نشست کی اپنی ایک خاص اہمیت ہے۔ سیکورٹی اداروں نے کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے نمٹنے کے لیے پولنگ سٹیشنز کے اندر اور باہر پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بھاری نفری تعینات کر رکھی ہے تاکہ شہری بغیر کسی خوف کے اپنا حق رائے دہی استعمال کر سکیں۔