World
جنوبی کوریا اور یوکرین تعلقات میں کشیدگی، شمالی کوریا کے جنگی قیدیوں کا معاملہ
شمالی کوریا کے جنگی قیدیوں کے معاملے پر رازداری کے معاہدے کی مبینہ خلاف ورزی کے بعد جنوبی کوریا اور یوکرین کے درمیان سفارتی کشیدگی بڑھ گئی ہے۔ جنوبی کوریا کے صدارتی دفتر نے اس صورتحال پر یوکرین کی پالیسی پر کڑی تنقید کی ہے۔
شمالی کوریا کے جنگی قیدیوں کی منتقلی کے معاملے پر جنوبی کوریا اور یوکرین کے مابین سفارتی تعلقات میں کشیدگی پیدا ہو گئی ہے۔ حالیہ رپورٹ کے مطابق جنوبی کوریا کے صدارتی دفتر نے یوکرین کی جانب سے قیدیوں سے متعلق رازداری کے معاہدے کو مسترد کرنے پر شدید تشویش اور تنقید کا اظہار کیا ہے۔ اس تنازعے نے بین الاقوامی سطح پر دونوں ممالک کے باہمی تعلقات کو ایک نئے موڑ پر لا کھڑا کیا ہے۔
ذرائع کے مطابق یہ سارا تنازعہ اس وقت شروع ہوا جب شمالی کوریا کے جنگی قیدیوں (POW) کی منتقلی اور ان سے متعلقہ معلومات کی حفاظت کے لیے طے پانے والے ضوابط پر عمل درآمد میں رکاوٹیں آئیں۔ جنوبی کوریا کی حکومت چاہتی تھی کہ اس حساس معاملے پر مکمل رازداری برتی جائے تاکہ سکیورٹی خدشات اور سفارتی پیچیدگیوں سے بچا جا سکے، تاہم یوکرین کی جانب سے اس معاہدے کو تسلیم نہ کیے جانے پر سیئول میں شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔
جنوبی کوریا کے صدارتی حکام کا کہنا ہے کہ اس طرح کے حساس امور میں بین الاقوامی پروٹوکول اور باہمی مفاہمت کا خیال رکھنا ناگزیر ہے تاکہ کسی بھی قسم کے ناخوشگوار سفارتی بحران سے بچا جا سکے۔ دوسری جانب یوکرین کی طرف سے اس معاملے پر تاحال کوئی حتمی اور تفصیلی جوابی مؤقف سامنے نہیں آیا، لیکن اس کشیدگی نے دونوں ممالک کے درمیان تعاون کے مستقبل پر سوالیہ نشان کھڑے کر دیے ہیں۔
تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ یہ تنازعہ دونوں ممالک کے لیے سفارتی طور پر نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے، بالخصوص ایسے وقت میں جب عالمی سطح پر جیو پولیٹیکل صورتحال پہلے ہی انتہائی کشیدہ ہے۔ دونوں حکومتوں کو چاہیے کہ وہ بات چیت کے ذریعے اس غلط فہمی کو دور کریں تاکہ باہمی تعلقات مزید متاثر نہ ہوں۔