World
ایران قیامت کی جنگ کے لیے تیار، وزیر خارجہ عباس عراقچی کا سخت بیان
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے واضح کیا ہے کہ تہران خطے میں کسی بھی صورتحال کا مقابلہ کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر جنگ دوبارہ شروع ہوتی ہے تو ایران قیامت کے درجے کی جنگ کے لیے بھی تیار ہے۔
تہران: ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ایک سخت اور دوٹوک بیان میں کہا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران خطے میں کسی بھی ممکنہ جارحیت اور جنگ کا سامنا کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔ انہوں نے یہ واضح کیا کہ تہران جنگ شروع ہونے کے خطرے سے خوفزدہ نہیں ہے اور حالات چاہے کتنے ہی سنگین کیوں نہ ہو جائیں، ملک اپنا دفاع بھرپور انداز میں کرے گا۔ ایرانی وزیر خارجہ کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں کشیدگی عروج پر ہے اور بین الاقوامی سطح پر سفارتی کوششیں جاری ہیں۔ اپنے ایک حالیہ انٹرویو اور بیانات میں عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ ایران نے تمام ممکنہ جنگی حالات کا باریک بینی سے جائزہ لیا ہے اور وہ اس کے نتائج سے نمٹنے کی پوری صلاحیت رکھتا ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ اگر صورتحال جنگ کی طرف دوبارہ مائل ہوتی ہے اور دشمن کی جانب سے کوئی قدم اٹھایا جاتا ہے، تو ایران یہاں تک کہ 'قیامت کی جنگ' (ڈومز ڈے وار) کے لیے بھی پوری طرح تیار ہے۔ ایرانی حکومت کا مؤقف ہے کہ وہ کبھی بھی جنگ کی ابتدا نہیں کرے گی، تاہم اگر کسی نے جارحیت مسلط کی تو اس کا منہ توڑ اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔ مبصرین کے مطابق، تہران کی جانب سے اس قسم کے سخت بیانات کا مقصد مخالفین کو اس بات کا واضح پیغام دینا ہے کہ ایرانی دفاعی نظام اور مسلح افواج کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نبرد آزما ہونے کے لیے ہہ وقت مستعد ہیں۔ علاقائی اور بین الاقوامی سیاست کے تناظر میں اس بیان کو انتہائی اہمیت دی جا رہی ہے کیونکہ اس سے مشرق وسطیٰ میں کشیدگی مزید بڑھنے کے خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں جبکہ دوسری طرف تہران اپنے اصولی مؤقف پر ڈٹا ہوا ہے۔