World
نیپال سیلاب تباہی: ایک ماہ بعد بھی ہزاروں افراد لاپتہ
نیپال میں تباہ کن سیلاب کے بعد ایک ماہ کا عرصہ گزر چکا ہے لیکن اب بھی ہزاروں افراد لاپتہ ہیں۔ متاثرہ علاقوں میں ریسکیو اور بحالی کے کاموں میں مشکلات کا سامنا ہے۔
نیپال میں آنے والے تباہ کن سیلاب کو ایک پورا مہینہ گزر چکا ہے لیکن اس خوفناک قدرتی آفت کے گہرے اثرات اور انسانی بحران اب بھی برقرار ہیں۔ ملک کے مختلف حصوں میں آنے والے اس طوفانی سیلاب نے بڑے پیمانے پر تباہی مچائی تھی جس کے نتیجے میں نظام زندگی مفلوج ہو کر رہ گیا تھا اور لاکھوں افراد متاثر ہوئے تھے۔ حکومتی اور فلاحی اداروں کی مسلسل کوششوں کے باوجود صورتحال مکمل طور پر نارمل نہیں ہو سکی ہے۔
حاصل ہونے والی تازہ ترین رپورٹس کے مطابق سیلاب اور اس کے نتیجے میں ہونے والے حادثات کے بعد اب بھی پانچ ہزار دو سو پچاسی (5,285) افراد لاپتہ ہیں۔ ان لاپتہ افراد کے اہل خانہ شدید ذہنی اذیت اور بے یقینی کی کیفیت سے دوچار ہیں جبکہ ریسکیو ٹیمیں اور سکیورٹی ادارے اب بھی مختلف مقامات پر تلاشی کی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ کسی بھی ممکنہ زندہ بچ جانے والے یا متاثرہ شخص کا سراغ لگایا جا سکے۔
دوسری جانب، ہزاروں بے گھر ہونے والے افراد کے لیے مشکلات میں کوئی کمی نہیں آئی ہے۔ ایک ہزار ایک سو سے زائد افراد اب بھی عارضی ہولڈنگ سینٹرز اور ریلیف کیمپوں میں کسمپرس کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ ان کیمپوں میں بنیادی سہولیات کی فراہمی ایک بڑا چیلنج بنی ہوئی ہے، اور سردی کے بڑھتے ہوئے موسم نے متاثرین کی مشکلات کو مزید بڑھا دیا ہے۔
حکومتِ نیپال اور بین الاقوامی امدادی تنظیمیں متاثرہ علاقوں میں بحالی کے کاموں کو تیز کرنے کی کوشش کر رہی ہیں تاکہ لوگوں کو ان کے گھروں یا مستقل رہائش گاہوں کی طرف واپس لایا جا سکے۔ تاہم، بنیادی ڈھانچے کی تباہی، سڑکوں کی خستہ حالی اور فنڈز کی کمی کی وجہ سے بحالی کا یہ عمل انتہائی سست روی کا شکار ہے اور متاثرین کو فوری امداد کا انتظار ہے۔